حضرت خالد بن ولید ؓ کی آپ بیتی — Page 6
9 8 یہودی رہتے تھے ہم نے یہودیوں کو اُکسایا کہ وہ مسلمانوں پر پیچھے سے حملہ کریں تا کہ آگے سے ہم اور پیچھے سے یہودی حملہ کر کے مسلمانوں کو تہس نہس کر دیں۔ہماری فوج کا سپہ سالار غزوہ اُحد والا ابوسفیان تھا۔صلح خلد يعيه غزوہ خندق کے بعد بھی ہمارے اور مسلمانوں کے درمیان کشمکش جاری رہی۔ہم نے ہیں دن کے محاصرے سے تنگ آکر میں نے اور عکرمہ نے معاملات کو اپنے ہاتھوں مسلمانوں کا حج بند کیا ہوا تھا کیونکہ خانہ کعبہ مکہ میں تھا اور مسلمان مکہ میں داخل نہیں ہو سکتے میں لیا اور دو تین میل لمبی خندق پر کئی جگہ تیروں سے مسلمانوں پر بڑی شدت سے حملہ کر تھے۔رسول اللہ کو مدینہ میں خواب آئی کہ وہ اپنے صحابہ کے ساتھ خانہ کعبہ کا طواف کر رہے ہیں۔آپ چودہ سو صحابہ کو لے کر طواف کرنے مکہ کی طرف چل پڑے۔ہم نے فیصلہ کیا کہ دیا۔مسلمانوں کی تعداد تھوڑی تھی وہ مختلف ٹولیوں میں خندق کے اُن حصوں پر ا کٹھے ہو گئے جہاں ہم تیروں سے حملہ کر رہے تھے۔اس موقع سے فائدہ اُٹھا کر جو جگہ خندق کی خالی رسول اللہ اور صحابہ کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔قریش نے مجھے تین سو سواروں کا دستہ دے کر بھیجا کہ میں مسلمانوں کو راستے میں ہی روک لوں۔میں مدینہ سے آنے والی ہو گئی تھی وہاں سے عکرمہ اپنے گھوڑوں کو دوڑا کر سات ساتھیوں کو لے کر خندق پار کرنے میں کامیاب ہو گیا۔مسلمانوں کی طرف سے حضرت علیؓ آگے بڑھے اور مقابلہ کیا۔سڑک پر اس درّہ کو روک کر کھڑا ہو گیا جہاں سے اس طرف سے آنے والے لوگ مکہ میں داخل ہوتے تھے۔رسول اللہ نے اس طرف ایک چھوٹا سا دستہ روانہ فرمایا۔میری توجہ اس طرف پھیر کر رسول اللہ صحابہ کو لے کر ایک اور راستے مکہ کے نزدیک مغرب میں حدیبیہ کے مقام تک پہنچ گئے۔رسول اللہ کی اس جنگی حکمت نے مجھے بہت متاثر کیا۔ہمارے دو تین آدمی مسلمانوں کے ہاتھوں مارے گئے۔عکرمہ مشکل سے جان بچا کر خندق پار کر کے واپس آ گیا۔خندق پار کرتے ہوئے میرے چا عبداللہ کا بیٹا نوفل خندق میں گر کر ہلاک ہو گیا۔حدیبیہ کے مقام پر رسول اللہ اور قریش کے درمیان ایک معاہدہ ہوا جس میں ایک شرط اس واقعے نے میرے دل پر بہت اثر کیا۔میں نے ارادہ کیا کہ خندق پار کر کے چین ی تھی کہ دس سال کے لئے جنگ بند کی جاتی ہے اور یہ کہ رسول اللہ کو اس سال نہیں بلکہ اگلے لوں گا۔اگلے روز میں نے اپنے دستے کو خندق سے کافی پیچھے ہٹایا اور تیزی سے گھوڑے سال حج کرنے کی اجازت ہوگی۔اگلے سال رسول اللہ حج کرنے کے لئے مکہ آئے مجھے اسلام سے نفرت تھی اس لئے میں مکہ سے بھاگ گیا۔میں یہ نہیں برداشت کر سکتا تھا کہ رسول اللہ مکہ میں میرے سامنے داخل ہوں۔مسلمانوں کے خلاف میری یہ آخری کا رروائی تھی کیونکہ اس کے بعد میرے ذہن میں کچھ تبدیلی پیدا ہونی شروع ہوئی اور مجھے اپنے مذہب پر دوڑا کر خندق پار کرنے میں کامیاب ہو گیا۔مسلمانوں نے مجھے گھیرے میں لے لیا۔میں نے ایک مسلمان پر حملہ کیا اور اسے شہید کر دیا اور تیزی سے اپنے دستے سمیت گھوڑے دوڑا کر خندق پار کر کے واپس آ گیا۔اس واقعہ کے دو روز بعد بہت شدید آندھی آئی۔ہماری فوج گھبرا گئی اور میدان چھوڑ شک ہونے لگا۔کر بھاگنے لگی۔تئیس (23) دن ہم نے مدینہ کو گھیرے رکھا۔ہماری فوج مسلمانوں سے دس گنا زیادہ تھی پھر بھی ہم کامیاب نہ ہو سکے۔مجھے اس واقعہ نے حیرت میں ڈال دیا۔مسلمانوں کے ساتھ یقینا کوئی غیبی طاقت کام کر رہی تھی۔قبول اسلام جب اللہ تعالیٰ نے مجھے نیکی کی ہدایت دینی چاہی تو میرے دل میں اسلام کی محبت پیدا