حضرت خالد بن ولید ؓ کی آپ بیتی — Page 5
7 6 تھے کہ ابو جہل ایک ہزار کا لشکر تیار کر کے مدینہ کی طرف روانہ ہوا۔اس کے مقابلہ کے لئے فرمائے۔لڑائی شروع ہوئی تو ہمارے قدم اکھڑ گئے اور ہماری فوج میدانِ جنگ سے رسول اللہ نے تین سو تیرہ صحابہ کا لشکر تیار کیا اور مدینہ سے باہر ابو جہل کے مقابلے کے لئے بھاگنے لگی۔مسلمانوں نے ہمارا مال غنیمت اکٹھا کرنا شروع کر دیا۔یہ دیکھ کر درّہ والے بدر کے مقام پر آئے۔بدر کے میدان میں دونوں لشکروں کے درمیان جنگ ہوئی۔ابو جہل مسلمانوں نے بھی درہ چھوڑ دیا۔کی فوج میں میرے سوا میرے خاندان کے اکثر لوگ شامل تھے۔ابوجہل اس جنگ میں مارا اس وقت میرے اور عکرمہ کے پاس سو سو سواروں کا ایک ایک دستہ تھا اور عمرو بن گیا اور ہمارے آدمیوں کو شکست ہوئی۔رسول اللہ ہمارے کئی آدمیوں کو جنگی قیدی بنا کر العاص ہمارا سالا رتھا۔جونہی مسلمانوں نے درہ چھوڑا میری نگاہ اس درہ پر پڑی۔میں اپنا مدینہ لے گئے۔جنگی قیدیوں میں میرا ایک بھائی ولید بن ولید بھی شامل تھا۔ولید بن ولید کو دستہ لیکر اس درہ میں سے داخل ہو کر مسلمانوں پر پچھلی طرف سے حملہ آور ہوا۔عکرمہ بھی مسلمانوں کی قید سے چھڑانے کیلئے ہم نے مسلمانوں کو چار ہزار درہم فدیہ دیا اور اُسے میدانِ جنگ کے دوسرے سرے سے گھوڑے دوڑا تا ہوا اپنے دستے کو لے کر میرے ساتھ واپس مکہ لے آئے۔لیکن وہ رسول اللہ اور صحابہ کے اچھے سلوک کی وجہ سے قید کے دوران شامل ہو گیا۔ہم دونوں نے مسلمانوں پر اس زور سے حملہ کیا کہ مسلمانوں کی فتح شکست میں ہی دل سے مسلمان ہو گیا تھا جس کا اعلان اُس نے مکہ آکر کیا۔میں اور میرے دوسرے بھائی بدلنے لگی۔اتنے میں ابوسفیان نے پیدل فوج اکٹھی کر کے مسلمانوں پر آگے سے حملہ کر دیا۔ولید بن ولید پر بہت ناراض ہوئے اور کہا تم نے مسلمان ہی ہونا تھا تو فدیہ کیوں ادا کیا۔اُس اس طرح یکدم چاروں طرف سے گھر جانے کی وجہ سے مسلمانوں کا بہت نقصان ہوا۔اور نے جواب دیا کہ میں اگر قید کے دوران ہی مسلمان ہونے کا اعلان کرتا تو لوگ سمجھتے کہ میں رسول اللہ کے چہرہ مبارک پر بھی زخم آگئے۔آپ کے دو دانت بھی شہید ہو گئے اور آپ بے فدیہ بچانے کے لئے مسلمان ہوا ہوں۔اس کے بعد ہم نے ولید کو بڑے دُکھ پہنچائے تا کہ وہ ہوش ہو کر گر پڑے۔لیکن آپ کی دعاؤں اور بہادری کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اسلام چھوڑ دے مگر وہ اپنے ایمان پر مضبوط رہا اور کچھ عرصہ بعد مدینہ چلا گیا۔شدید نقصان سے بچالیا۔جس کا ہم نے ارادہ کیا ہوا تھا۔غزوہ اُحد غزوہ خندق مسلمانوں کے خلاف پہلا موقع مجھے غزوہ اُحد میں ملا۔بدر کا بدلہ لینے کے لئے ہم نے تین ہزار کا لشکر تیار کیا اور ابوسفیان کی زیر کمان ہم مدینہ پر چڑھائی کرنے کے لئے اُحد ایک اور موقع مجھے مسلمانوں کے خلاف غزوہ خندق کے دوران ملا۔اسلامی تاریخ میں پہاڑی تک پہنچ گئے جو مدینہ کے شمال میں صرف چار میل کے فاصلے پر ہے۔مسلمان لشکر کی مسلمانوں پر یہ سب سے خطرناک حملہ تھا۔ہم نے عرب کے تمام بڑے بڑے قبیلے اکٹھے تعداد ایک ہزار تھی۔جن میں سے تین سو منافق ہماری تین گنا فوج دیکھ کر بھاگ گئے۔اور کئے اور چوبیس ہزار کی فوج کے ساتھ مدینہ پر حملہ کر دیا۔مسلمانوں کی کل تعداد تین ہزار تھی میدانِ جنگ میں صرف سات سو مسلمان رہ گئے۔مسلمان فوج کے پیچھے اُحد کا پہاڑ تھا اور اس لئے اتنے بڑے لشکر کا مقابلہ کرنا مسلمانوں کے لئے ناممکن تھا۔اس لئے مسلمانوں نے ایک جگہ پر پہاڑی میں ایک درہ تھا جو اُحد اور عینین کی پہاڑی کے درمیان ہے۔اس درّہ مدینہ کے گرد ایک چوڑی اور گہری خندق کھود کر مدینہ کو ہمارے اچانک حملے سے محفوظ کر لیا۔اسلامی فوج کو خطرہ ہو سکتا تھا اس لئے رسول اللہ نے وہاں پچاس تیر انداز مقرر ہم نے مدینہ کا محاصرہ کر لیا۔اور یہ محاصرہ ہیں دنوں تک جاری رہا۔مدینہ کے جنوب میں