حضرت خالد بن ولید ؓ کی آپ بیتی

by Other Authors

Page 10 of 24

حضرت خالد بن ولید ؓ کی آپ بیتی — Page 10

17 16 اس قبیلے کو اسلام کی دعوت دی۔انہوں نے اسلام قبول کرلیا۔لیکن نجد میں قبیلہ اسد کے سردار طلیحہ نے مدینہ کے شمال کی طرف بُزاخہ میں جھوٹی نبوت میں نے رسول اللہ کی خدمت میں خط لکھا اور بنو حارثہ کے اسلام قبول کرنے کی اطلاع کا دعوی کر رکھا تھا۔قبیلہ بنو تمیم کے سردار مالک بن نویرہ نے مدینہ کے شمال مشرق کی طرف دی۔رسول اللہ بہت خوش ہوئے اور خط میں ارشاد فرمایا کہ اس قبیلے کے کچھ لوگ لے کر بطاح میں بغاوت کر رکھی تھی اور یمامہ میں مسیلمہ نے جھوٹی نبوت کا دعوی کر کے بغاوت مدینہ آؤں۔مجھے مدینہ سے آئے ہوئے چھ ماہ ہو گئے تھے یہ عرصہ میں نے مبلغ کے طور پر کر دی تھی۔اسی طرح تبوک اور دومتہ الجندل کے علاقوں میں قضاعہ اور ودیعہ قبائل نے گزارا۔شوال ۱۰ھ بمطابق جنوری ۶۳۲ ء کو میں وفد لے کر رسول اللہ کی خدمت میں مدینہ بغاوت کر رکھی تھی۔حاضر ہوا۔ان باغیوں سے نمٹنے کے لئے حضرت ابو بکر نے گیارہ لشکر تیار کئے اور انہیں عرب میں اس کے کچھ عرصہ بعد ۱۲ / ربیع الاول ۱۰ھ مطابق ۵/ جون ۶۳۲ ء کو رسول اللہ فوت چاروں طرف بھیج دیا۔ان گیارہ لشکروں میں سے ایک لشکر میرا تھا۔مجھے طلیحہ اور مالک بن ہو گئے۔اور اس طرح رسول اللہ کی زندگی میں میری یہ آخری مہم ثابت ہوئی۔نویرہ کی طرف بھیجا گیا۔خلافت راشدہ میں میری جنگی خدمات فتنہ بغاوت میں میری خدمات عرب کے شمال وسطی علاقہ میں خاتمہ بغاوت کیلئے مہم طلیحہ نجد میں بنو اسد کا سردار تھا۔جو رسول اللہ کی زندگی میں مسلمان ہو کر اب خود جھوٹا میں جب بُزاخہ پہنچا تو طلیحہ کی فوج پہلے سے تیار تھی۔اُس کی فوج کا سپہ سالا رطلیحہ کا رسول اللہ کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر پہلے خلیفہ اور عرب کے بادشاہ ہوئے۔نبی بن گیا تھا۔اس نے کئی قبیلوں کو ملا کر بُزاخہ میں ایک بڑی فوج اکٹھی کر لی۔ذوالقصہ اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سارا عرب مسلمان ہو گیا تھا۔آپ نے اپنی زندگی ابرق سے بھی باغی بھاگ کر بُزاخہ میں اس کی فوج میں شامل ہو گئے تھے۔میں ہی دنیا کے بڑے بڑے بادشاہوں کو اسلام کا پیغام پہنچادیا تھا لیکن رسول اللہ کی وفات کے بعد کئی عرب قبائل نے بغاوت کر دی اور مدینہ پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا۔باغی قبائل مدینہ بھائی خبال تھا اور طلیحہ خود ایک چادر اوڑھ کر وحی کے انتظار میں ایک طرف بیٹھ کر لوگوں کو کے شمال مشرق میں ستر میل دور ابرق کے مقام پر اور مشرق میں چوبیس میل دور ذوالقصہ میں دھوکہ دے رہا تھا۔میرے اور خبال کے لشکر کے درمیان لڑائی ہوئی خبال مارا گیا اور طلیحہ مدینہ پر حملہ کرنے کے لئے جمع ہو گئے۔سارے عالم اسلام اور خود حضرت ابوبکر کے لئے یہ کے لشکر کی بُری طرح پٹائی ہوئی اس حالت میں لوگ بار بار طلیحہ کے پاس جا کر وحی کے بڑا مشکل وقت تھا۔دشمن خوش ہو رہے تھے کہ رسول اللہ کے مرنے کے ساتھ ہی اسلام بھی بارے میں پوچھتے۔طلیحہ انہیں ٹالتا رہا۔بالآخر لوگوں کو علم ہو گیا کہ طلیحہ جھوٹا ہے۔طلیحہ اپنی دنیا سے مٹ جائے گا۔حضرت ابو بکر کو ان باغیوں سے نمٹنے کے لئے جہاد کا اعلان کرنا پڑا۔بیوی کو گھوڑے پر بٹھا کر میدان جنگ سے بھاگ گیا اور شام کی سرحد میں قبیلہ قضاعہ میں حضرت ابو بکر نے ایک لشکر لے کر باغیوں کو ذوالقصہ اور ا برق میں سزادی جہاں سے جا کر مقیم ہو گیا اور حضرت عمر کے زمانہ میں دوبارہ مسلمان ہو گیا۔وہ ڈر کر بھاگ گئے اور مدینہ پر فوری حملے کا خطرہ ٹل گیا۔طلیحہ کے ساتھی میدانِ جنگ سے بھاگ گئے میں نے اُن کا پیچھا کیا اور سزا دی۔لیکن