حضرت خالد بن ولید ؓ کی آپ بیتی

by Other Authors

Page 11 of 24

حضرت خالد بن ولید ؓ کی آپ بیتی — Page 11

19 18 قبیلہ بنو غطفان والوں نے اکٹھے ہو کر ظفر کے مقام پر ایک عورت سلمی بنت مالک کو سردار ساتھ ملا کر مدینہ پر بھاری لشکر کے ساتھ حملہ کیا جائے۔سجاح کو شکست ہوئی اس نے علاقہ بنا کر میری فوج کا سخت مقابلہ کیا اور بالآخر شکست کھائی۔سلمیٰ بنت مالک بنو غطفان کے چھوڑ دینے پر صلح کر لی۔ایک سردار کی بیٹی تھی اس کی ماں اُتم قرفہ بھی ایک بلند مرتبہ خاتون تھی۔ایک جنگ میں سلمی سجاح نے اپنے مریدوں کو یمامہ کی طرف کوچ کرنے کا حکم دیا جہاں قبیلہ بنوحنیفہ میں قیدی بنا کر مدینہ لائی گئی تھی جہاں رسول اللہ نے اسے کنیز بنا کر حضرت عائشہ کو دے دیا ایک شخص مسیلمہ نبی بنا بیٹھا تھا وہ بھی پہلے مسلمان تھا بعد میں کہنے لگا کہ رسول اللہ کی زندگی تھا۔سلمی خوش نہ تھی۔حضرت عائشہ نے اُسے آزاد کر دیا۔وہ اپنے قبیلہ میں واپس آکر قوم کی میں وہ آدھی نبوت کا مالک تھا اور رسول اللہ کی وفات کے بعد وہ پوری نبوت اور سارے سردار بن گئی اور اس بغاوت میں اسلام کی جانی دشمن بن گئی۔بالآخر میرے ذریعے اپنے ملک کا مالک ہے۔وہ عالم اسلام کے لئے سب سے خطرناک دشمن بن گیا۔انجام کو پہنچی۔سلمی کی موت کے بعد اس علاقے نے اطاعت قبول کر لی۔میں نے اس مہم سے فارغ ہو کر حضرت ابو بکر کو خط لکھا۔حضرت ابو بکر خوش ہوئے اور میری آئندہ کا میابی مسیلمہ کی طرف نکلے ہوئے تھے۔سجاح اور مسیلمہ دونوں اپنی اپنی جگہ گھبرائے اور دونوں نے مل کر آپس میں شادی کر لی۔مسیلمہ نے سجاح کے حق مہر میں فجر وعشاء کی نمازیں معاف کے لئے دعا فرمائی۔بغاوت کے خاتمہ کیلئے میری دوسری مہم طلیحہ کی مہم سے فارغ ہو کر میں مالک بن نویرہ سے نمٹنے کے لئے بڑھا۔مالک بن نویرہ قبیلہ بنو تمیم کا سردار تھا اور بحرین سے آگے عرب کے شمال مشرق میں بطاح میں رہتا تھا ۰۹ ھ میرالشکر بنو تمیم کے مرکز بطاح کی طرف بڑھ رہا تھا۔اور دوسرا اسلامی لشکر عکرمہ لے کر کرنے کا اعلان کیا اور اس طرح شریعت کے ساتھ بھی مذاق کیا۔میر الشکر جب بنو تمیم کے علاقے میں پہنچا تو سجاح کے ساتھی بھاگ گئے اور سجاح بھی بھاگ کر عراق چلی گئی۔مالک بن نویرہ اکیلا رہ گیا اور سخت ڈر گیا۔بطاح پہنچ کر میں نے مالک بن نویرہ کے کسی سپاہی کو نہ پایا۔میں نے بطاح پر قبضہ کر کے کچھ سواروں کو بنو تمیم کی میں وہ اپنے قبیلے کے ساتھ مسلمان ہوا۔رسول اللہ نے اُسے اپنے علاقے میں زکوۃ اکٹھی بستیوں کی طرف بھیجا۔حضرت ابو بکر کے حکم کے مطابق میرے سپاہی ہر بستی کے باہر اذان دیتے۔اگر بستی والے اس کے جواب میں اذان دیتے تو اس کا یہ مطلب ہوتا کہ بستی مسلمان کرنے پر مقرر فرمایا۔کچھ عرصہ دیانتداری سے کام کرنے کے بعد رسول اللہ کی وفات کے بعد وہ باغی بن گیا۔اس کے پاس اس وقت تک زکوۃ وغیرہ کی کافی رقم اکٹھی ہو چکی تھی۔مالک بن نویرہ کی ایک رشتہ دار عورت سجاح تھی اس کی ماں عراق کی تھی۔اس لئے ہے ورنہ اس بستی پر حملہ کر دیا جاتا۔سجاح بھی عیسائی ہوگئی جب عرب میں طلیحہ اور مسیلمہ وغیرہ نے نبوت کے جھوٹے دعوے کئے۔تو اُسے بھی نبی بننے کا شوق پیدا ہوا۔اس نے کہا کہ نبی صرف مرد ہی نہیں ہوتے عورت بھی نبی ہوسکتی ہے۔چنانچہ سجاح نے نبی ہونے کا دعویٰ کر دیا۔چار ہزار لوگوں کو اپنا مرید بنالیا اور مدینہ پر حملہ کرنے کی تیاری کی۔مالک بن نویرہ نے اس کا ساتھ دیا۔پہلے بنو تمیم کی بستیوں کے اکثر لوگ تو بہ کر کے دوبارہ مسلمان ہو گئے۔مالک بن نویرہ اور اس کی بیوی کو گرفتار کر کے میرے سامنے پیش کیا گیا۔جنگ یمامه بُزاخہ اور بطاح کی مہمات سے فارغ ہو کر حضرت ابوبکر نے مجھے مسیلمہ کی طرف یمامہ انہوں نے مل کر بنو تمیم کے ان قبائل پر حملہ کیا جو سجاح کو ابھی نبی نہیں مانتے تھے تا کہ ان کو جانے کا ارشاد فرمایا۔وہاں مسیلمہ کی نقل و حرکت دیکھنے کے لئے عکرمہ اور شرحبیل اپنے