حضرت خالد بن ولید ؓ کی آپ بیتی

by Other Authors

Page 22 of 24

حضرت خالد بن ولید ؓ کی آپ بیتی — Page 22

41 40 بیت المقدس کی چابیاں حضرت عمرؓ کے حوالے کر دیں۔میری آنکھوں کے سامنے مجھ سے جُدا ہوئے۔میں نے اس غم کو بڑے صبر سے برداشت یہاں سے حضرت عمررؓ فتح شدہ علاقوں کا دورہ کر کے اور سرحدوں کی حفاظت کا انتظام کیا۔ان ابتدائی سپہ سالاروں کے بعد حضرت عمرو بن العاص نے فوج کی قیادت سنبھالی۔کر کے مدینہ تشریف لے گئے۔بیت المقدس کے پادری کے ساتھ حضرت عمرؓ کے معاہدے پر میں نے بھی بطور گواہ دستخط کئے۔فوج سے میری سبکدوشی مرعش سے واپسی پر بنی کندا کے ایک سردار اشعث بن قیس نے میری تعریف میں ایک قصیدہ پڑھا اور مجھے ایک عظیم فاتح قرار دیا۔میں نے اسے خوش ہو کر دس ہزار درہم بطور انعام دیئے۔یہ خبر حضرت عمر تک پہنچی تو انہوں نے مجھے مدینہ بلوایا اور فوج سے سبکدوش کر دیا۔میں واپس حمص آکر فوج سے علیحدہ ہو گیا اور وہیں رہنے لگا۔حضرت عمرؓ نے تین ہزار درہم سالانہ میرا وظیفہ مقررفرمایا۔مجھے خوب علم ہے میری فوج سے سبکدوشی کسی سزا کی وجہ سے نہ تھی بلکہ یہ اس وجہ سے تھی کہ لوگ سمجھنے لگ گئے تھے کہ اسلامی فتوحات میری وجہ سے ہو رہی ہیں۔حالانکہ میری جگہ کوئی اور بھی ہوتا تو وہ بھی فتوحات حاصل کرتا۔دوستوں کی جدائی میرے ساتھی ابو عبیدہ ، شرحبیل ، یزید اور ضرار بھی جلد ہی مجھ سے ہمیشہ کے لئے جُدا ہو گئے۔کیونکہ ۱۸ ھ (بمطابق جنوری، فروری ۶۳۹ ء) میں فلسطین میں طاعون کی جو وباء پھوٹی وہ ان سب کے لئے جان لیوا ثابت ہوئی۔اس بیماری میں میری اولاد میں سے بھی کئی