حضرت خالد بن ولید ؓ کی آپ بیتی

by Other Authors

Page 21 of 24

حضرت خالد بن ولید ؓ کی آپ بیتی — Page 21

39 38 رومیوں کا سالار اعظم ماہان زندہ بچ نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔میں سواروں کا ایک جنگ کے شروع میں انفرادی مقابلہ بازی ہوتی رہی۔کئی رومی افسرموت کے گھاٹ اُتارے گئے۔آہستہ آہستہ رومی سپہ سالار اعظم ماہان نے اپنی فوج کا انسانی سیلاب آگے دستہ لے کر اس کے پیچھے دمشق کی طرف گیا۔ماہان جو کہ آرمینیا کا بادشاہ اور رومی فوج کا۔بڑھایا اور جنگ شروع ہوگئی۔تیراندازی ہوتی رہی۔پھر تلواروں سے مقابلہ شروع ہوا۔سالا راعظم تھا ایک عام مسلمان کے ہاتھوں مارا گیا۔رومی فوج کا ایک حصہ تھکتا تو دوسرا تازہ دم حصہ آگے آجاتا۔پھر تیسرا آتا اور مسلمانوں کا وہی دستہ اُن سب کا مقابلہ کرتا رہتا۔ایک موقع پر عمر و بن العاص کا دستہ تین چار تازہ دم لشکروں کا مقابلہ کر کے ذرا میں جب دمشق پہنچا تو دمشق والوں نے میرا استقبال کیا اگلے روز میں پھر یرموک واپس آ گیا۔جنگ یرموک مشرقی رومی شہنشاہی کی سب سے تباہ کن شکست تھی اور اس کے ساتھ ہی پیچھے ہٹا تو مسلمان عورتوں نے خیموں کے ڈنڈوں اور پتھروں سے ان کی مرمت کی حتی شام کی سرزمین پر رومی تسلط ختم ہو گیا۔ہر قل شام چھوڑ کر قسطنطنیہ بھاگ گیا۔کہ وہ آگے بڑھے اور دشمن پر ٹوٹ پڑے۔دشمن نے اولوں کی طرح تیر مسلمانوں پر اس جنگ میں ستر ہزار رومی مارے گئے اور اسی ہزار بھاگ گئے۔مسلمان شہداء کی برسائے اور کئی مسلمانوں کی آنکھوں میں تیر لگے۔مسلمانوں نے بڑی بہادری سے تعداد چار ہزار تھی۔جنگ یرموک اسلام کی ایک شاندار فتح تھی۔دشمنوں کا مقابلہ کیا۔بعض دفعہ عورتیں بھی مسلمانوں کے شانہ بشانہ میدان جنگ میں لڑیں۔بیت المقدس کی فتح بڑے بڑے معزز قریشی شہزادے اس جنگ میں شہید ہوئے لڑائی پانچ دن تک ہوتی جابیہ سے ہم بیت المقدس کی طرف روانہ ہوئے۔میں بھی ابوعبیدہا کے ہمراہ تھا۔رومی رہی۔چوتھا دن بڑا وحشت ناک تھا۔عکرمہ اور ان کا بیٹا عمرو بڑی بہادری سے لڑے اور قلعہ بند ہو گئے۔چار ماہ کے محاصرے کے بعد بیت المقدس والوں نے اس شرط پر ہتھیار دونوں نے جام شہادت نوش کیا۔مسلمانوں نے اپنے جسموں کو وہ قوت اور برداشت ڈالنے کی پیش کش کی کہ صلح کے معاہدہ پر دستخط کرنے کے لئے خود مسلمانوں کے خلیفہ آئیں۔حضرت ابو عبیدہ نے مدینہ حضرت عمرؓ کو لکھا۔حضرت عمر ربیع الاول ۱۶ ھ (بمطابق اپریل دکھانے پر مجبور کیا جن کے لئے انسانی جسم بنائے ہی نہیں گئے تھے۔پانچواں دن گزرا اور چھٹا دن آیا۔جرجیر اور اسلامی فوج کے سپہ سالا راعظم ابوعبیدہ ۶۳۷ ء) کو شام تشریف لائے۔کی انفرادی لڑائی ہوئی۔جر جیر مارا گیا۔ہم نے جابیہ میں حضرت عمر کا استقبال کیا۔حضرت عمر کی بیت المقدس میں آمد مسلمانوں اس جنگ میں رومی بھاری تعداد میں مارے گئے۔باقی ڈر کر دریائے یرموک اور رفاد کے لئے ایک بڑا واقعہ تھا۔انہوں نے خلیفتہ المسلمین کو دیکھ کر بہت خوشیاں منائیں۔کی وادی کے راستے سے نکلنے کے لئے بھاگے لیکن وہاں ضرار ایک دستے کے ساتھ پہلے ہی حضرت عمر سادہ لباس میں تھے۔بعض لوگوں نے آپ کو تر کی گھوڑا اور لباس پیش کیا۔موجود تھا۔اس طرح رومی پھر چاروں طرف سے گھر گئے۔خوب مقابلہ ہوا۔بالآخر رومی آپ نے یہ کہہ کر رد فرما دیا کہ خدا نے ہمیں اسلام کی جو عزت دی ہے ہمارے لئے وہی کافی ہے۔آپ اسی سادہ لباس میں بیت المقدس میں داخل ہوئے۔پادریوں نے خود برباد ہو گئے اور میری سب سے بڑی جنگ اختتام کو پہنچی۔