حضرت خالد بن ولید ؓ کی آپ بیتی — Page 23
43 42 آخری بیماری اور وفات حضرت خالد بن ولید موت کی خبر آنا فانا سارے عالم اسلام میں پہنچ گئی۔اور اس خبر سے مدینہ کے تمام لوگ افسردہ ہو گئے۔حضرت عمرؓ کی آنکھیں بھی اشکبار ہو گئیں۔حضرت خالد بن ولید نے اسلام لانے کے بعد بے شمار جنگیں لڑیں اور اب سبکدوش حمص والوں نے حضرت خالد بن ولید کی آرام گاہ شاہراہ حما پر ایک باغ کی مسجد میں ہونے کے بعد انہوں نے چار سال تک غیر فوجی زندگی گزاری۔اس دوران وہ میدان بنائی جسے لوگ مسجد خالد بن ولید کہتے ہیں۔حضرت خالد بن ولید نے اٹھاون سال جنگ میں نہیں تھے پھر بھی اسلامی فتوحات ہوتی رہیں۔وہ بھی تمام مسلمانوں کی طرح اسلامی فتوحات پر خوش ہوتے رہے اور اپنے فوجی کارناموں کے بارے میں یادیں تازہ کرتے عمر پائی۔رہے۔حضرت خالد بن ولید ۲۱ ھ ( ۶۴۲ ء ) میں بیمار ہوئے۔ایک دن ان کا ایک دوست اولاد حضرت خالد بن ولید کے تین بیٹے ہیں۔سلیمان ان کا بڑا بیٹا تھا جو مصر کی جنگ میں لڑتا ان کے پاس عیادت کے لئے آیا اور ان کی چار پائی کے پاس بیٹھ گیا۔حضرت خالد بن ولید ہوا شہید ہوا۔مہاجر جو چوتھے خلیفہ حضرت علی کی فوج میں جنگ صفین میں شہید ہوا۔کو کچھ سوچ کر رونا آگیا۔اُس نے پوچھا خالد ! کیوں روتے ہو؟ میں نے اسے اپنے جسم عبدالرحمن جو ۴۶ ھ تک زندہ رہا۔امیر معاویہ کے زمانہ میں کسی نے اسے زہر دے دیا تھا۔کے ایک حصے سے کپڑا اُٹھا کر اپنے زخموں کے نشان دکھائے۔ان کے سارے جسم پر زخموں ان کا ایک پوتا بھی انکا ہم نام تھا خالد بن عبد الرحمن بن خالد بن ولید۔وہ بھی ان کی طرح بہادر تھا لیکن اس کی نسل آگے نہ چل سکی۔واللہ اعلم بالصواب کے گہرے نشان تھے کہیں ایک بالشت کا فاصلہ بھی ایسا نہ تھا جہاں زخم کا نشان نہ ہو۔انہوں نے اُسے کہا کہ میں سینکڑوں جنگوں میں شامل ہوا لیکن شہادت نصیب نہ ہوئی اور اب بستر پر مر رہا ہوں۔مجھے زندگی میں سب کچھ ملا۔جہاں گیا فتح حاصل کی۔لیکن شہادت نصیب نہ ہوئی۔اس دوست نے کہا خالد ! تمہیں یاد ہو گا رسول اللہ نے تمہیں ایک لقب دیا تھا۔اللہ کی تلوار‘ تم شہید نہیں ہو سکتے تھے۔اگر کوئی دشمن تمہیں شہید کر دیتا تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ دشمن نے اللہ کی تلوار توڑ دی ہے اور یہ کبھی نہیں ہوسکتا تھا۔اس خیال نے حضرت خالد بن ولید لئے مرنا آسان کر دیا۔انہوں نے اپنا پسندیدہ شعر گاتے گاتے اپنی جان اپنے خدا کے حضور پیش کی۔وہ شعر یہ تھا: أَنَا فَارِسُ الصَّدِيدِ - أَنَا خَالِدُ بْنُ وَلِيْد أَنَا سَيْفُ اللَّهِ