سیدۃ النِّسأ حضرت خدیجۃُ الکُبرٰی ؓ — Page 10
1۔" حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے حالات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ صرف ہزاروں روپے رکھنے والی خاتون نہیں تھیں بلکہ لاکھ پتی خاتون تھیں مستقل طور پر اُن کی طرف سے متعدد قافلے تجارت کے لئے شام کی طرف آتے جاتے تھے اور یہ وسیع کاروبار وہی شخص کر سکتا تھا جو اپنے لاکھوں روپے رکھتا ہو۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حضرت خدیجہ بن کی اس عدیم المثال قربانی کے نتیجہ میں دولت کے ڈھیروں ڈھیر یل گئے تو آپ نے وہ تمام مال قوم کے غرباء اور تا می ومساکین میں تقسیم کر کے اپنا دل ٹھنڈا کر لیا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جتنی بھی اولاد ہوئی وہ (سوائے حضرت صاحبزادہ ابراہیم کے ، حضرت خدیجہ ہی کے بطن مبارک سے ہوئی۔اللہ تعالیٰ نے آنحضرت کو آپ سے تین فرزند اور چار صاحبزادیاں عطا فرمائیں جن کے نام یہ ہیں۔حضرت قاسم ، حضرت طاہر، حضرت طيب ، حضرت زینب ، حضرت رقیہ ، حضرت ام کلثوم اور (ایم حسنین ) حضرت فاطمتہ الزہراء حضرت خدیجہ آیت اللہ تھیں جنہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ے تفسیر کبیر (والضحی صفحه ۱۰۷