سیدۃ النِّسأ حضرت خدیجۃُ الکُبرٰی ؓ

by Other Authors

Page 8 of 24

سیدۃ النِّسأ حضرت خدیجۃُ الکُبرٰی ؓ — Page 8

پوری تجارت گویا آپ کے کنٹرول میں آگئی اور عرب میں آپ کی دولتمندی کی شہرت دُور دُور تک پھیل گئی۔ایک بار مال کی روانگی کا وقت آیا تو حضرت ابوطالب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ خدیجہ سے جا کر ملنا چاہیے۔ان کا مال شام جائے گا بہتر ہو کہ آپ بھی ساتھ جائیں۔آنحضرت کی پارسائی ، تقدس اور صداقت کا عام چر چاتھا اور آپ امین کے لقب سے پکارے جاتے تھے۔حضرت خدیجہ کو اس گفت گو کی خبر ہوئی تو فورا پیغام بھیجا کہ آپ میرا مال تجارت لے کر شام کو تشریف لے جائیں، میں اوروں کی نسبت آپکو ڈ گنا معاوضہ پیش کروں گی۔آنحضرت نے یہ شرط قبول فرمالی۔حضرت خدیجہ نے اپنا غلام میسرہ آپ کے ہمراہ کر دیا۔اس سفر میں عجیب غیبی برکتیں نمودار ہوئیں اور آنحضرت کی دعاؤں اور تدابیر اور دیانت و امانت کے نتیجہ میں خارق عادت رنگ میں نفع ہوا جس نے حضرت خدیجہ سے دل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیدت و محبت کا ایک در یارواں کر دیا۔اس کے بعد آنحضرت جب دوسری بار میرہ کے ساتھ سامان تجارت لے کر شام تشریف لے گئے تو دوران سفر بصرہ میں نسطورہ راہب نے میسرہ کو اپنی فراست و بصیرت سے خبر دی کہ آپ ہی نئی منتظر اور پیغمبر