سیدۃ النِّسأ حضرت خدیجۃُ الکُبرٰی ؓ

by Other Authors

Page 15 of 24

سیدۃ النِّسأ حضرت خدیجۃُ الکُبرٰی ؓ — Page 15

۱۵ نے ادا کیا۔چنانچہ آپ آنحضرت کو اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کی طرف لے گئیں جنہوں نے غار حرا کی تجلی کا واقعہ سنتے ہی اقرار کیا کہ یہ وہی فرشتہ ہے جو حضرت موسی جیسے اولو العزم نبی پر ظاہر ہوا تھا۔ازاں بعد آپ نے بصری کے بحیرا راہب کو بھی آفتاب نبوت کے ظہور کی اطلاع دی بیلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلانِ رسالت نے سارے عرب کو مشتعل کر دیا، آنحضور نماز پڑھتے تو آپ پر خاک ڈال دی جاتی ، بازار سے گذرتے تو اوباش جمع ہو کر آوازیں کستے۔اپنے مکان میں تشریف لاتے تو بار دگیر د کے مکانوں سے آپ کے گھر میں سنگ باری کی جاتی اور بعض دفعہ بکروں اور اونٹوں کی انٹریوں اور دوسری بدبو دار اور گندی چیزوں کا ڈھیر لگ جاتا۔یہ وہ درد ناک ماحول تھا جس میں ام المؤمنین حضرت خدیجة الکبری نے اپنے بچوں کی تربیت اور اپنے محبوب ترین خاوند کی خدمت گذاری کا حق ادا کر دیا۔امام محمد بن اسحاق امام المغازی فرماتے ہیں:۔كانَتْ لَهُ وَزِيرَ صِدْقٍ عَلَى الْإِسْلَامِ يَشْكُرُ إِلَيْهَا و" وَيُهْلِكُ همه " سه سیرت حلبیہ جلد صفر ۳۹۴ تالیف علی بن به بان الدین الطلبی با سه ابن ہشام