سیدۃ النِّسأ حضرت خدیجۃُ الکُبرٰی ؓ — Page 16
حضرت خدیجہ اسلامی امور میں آنحضور کی مخلص وزیر تھیں۔آپ اُنکے سامنے اپنی تکالیف بیان فرماتے اور وہ آپ کی ڈھارس بندھاتی تھیں حضرت ابن عبد البر القرطبی فرماتے ہیں :۔فَكَانَ لا يَسْمَعُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ شَيْئًا يَكَرَمُهُ مِنْ رَةِ عَلَيْهِ وَتَكْذِيبِ لَهُ إِلَّا فَرَّجَ اللهُ عَنْهُ بِمَا تَشَبْتُهُ وَتُصَدِّقُهُ وَتُطَّفَفُ عَنْهُ وَ تُهَوَنُ عَلَيْهِ مَا يُلْقَى مِنْ قومه له آنحضرت کو مشرکوں کی تکذیب یا تردید سے جو صدمہ بھی پہنچتا حضرت خدیجہ کے پاس آکر دُور ہو جاتا تھا کیونکہ وہ آپ کی باتوں کی تصدیق کرتی تھیں اور مشرکین کے معاملہ کو آپ کے سامنے بے وقعت کر کے پیش کرتی تھیں۔حضرت خدیجہ کی زندگی کا آخری امتحان محترم شنہ نبوی میں شروع ہوا جب کہ قریش مکہ نے مسلمانوں کے خلاف باقاعدہ معاہدہ کر کے اجتماعی اور منظم بائیکاٹ کیا اور آنحضرت اور حضرت خدیجہ اور دوسرے مظلوم صحابہ کو شعب ابی طالب میں (جو ایک پہاڑی درہ کی صورت میں تھا، محصور ہونا پڑا۔نظر بندی کا یہ زمانہ قیامت سے کم نہیں تھا جس میں ایسے ایسے دردناک ه استیعاب جلد ۲ صفحہ ۷۴۰