سیدۃ النِّسأ حضرت خدیجۃُ الکُبرٰی ؓ — Page 13
جیسی سرتا پا نور اور خدا نما شخصیت کے روحانی اثرات بشیم خود ملاحظه کر چکی تھیں بے ساختہ پکار اُٹھیں :۔كلا واللهِ مَا يُخْزِيكَ اللهُ أَبَدًا إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ - وَتَحْمِلُ الكَلَ وَتَكْسِبُ الْمَعْدُومَ وَتَقْرِى الضَّيْفَ وَتُعِيْنُ عَلَى نَوَابَ الْحَقِّ ل رسوا نہیں نہیں ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا۔بخدا۔اللہ تہ آپ کو کبھی رسہ نہیں کرے گا۔آپ صلہ رحمی کرتے ہیں۔لوگوں نے بوجھ اُٹھاتے ہیں۔معدوم اخلاق کو آپ نے اپنی ذاتِ اقدس میں جمع کر لیا ہے۔آپ مہمان نواز ہیں اور حق کی باتوں میں لوگوں کے مددگار بنتے ہیں۔حضرت خدیجہ کی یہ گواہی نہ صرف رسالت محمدی کی صداقت کا دائمی نشان ہے بلکہ اس سے حضرت خدیجہ کی فصاحت و بلاغت ، خدا پر کامل یقین اور کامل محبت اور باریک نظری اور دینی فہم و دانش کا پتہ بھی لگتا ہے اور یہ دیکھ کر تو روح وجد کر اُٹھتی ہے کہ آپ کے اس تاریخی فقرہ میں (جو فصاحت و بلاغت کا بھی شاہکار ہے ، جملہ الہامی کتب خصوصاً ے بخاری جلدا صفحه ۳ (مصری)