سیدۃ النِّسأ حضرت خدیجۃُ الکُبرٰی ؓ — Page 12
۱۲ میں تشریف لے جاتے اور کئی کئی دن اور راتیں عبادت و مراقبہ میں گذارتے حضرت خدیجہ نہایت اہتمام سے مدت قیام کے لئے ایسا کھانا تیار کر دیتیں جو موسمی اثرات سے محفوظ رہ سکے۔خوراک ختم ہونے پر حضور واپس گھر تشریف لے آتے۔حضرت خدیجہ توشہ تیار کر دیتیں اور آپ پھر عازم چرا ہو جاتے۔ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت خدیجہ دونوں نے غار حرا میں اعتکاف کی نذر مانی یه کم اور رمضان کی تاریخ اور پیر کا دن آنحضرت کی چالیس سالہ زندگی کے لئے ہی نہیں دنیا بھر کے لئے ایک انقلاب عظیم کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔آپ حسب معمول نہایت یکسوئی سے اپنے خالق آسمانی کی یاد میں محو تھے کہ حضرت جبریل امیں نازل ہوئے اور نشر آنی وحی اِقْرَأَ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَق کا آغاز ہوا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سخت گھبراہٹ کے عالم میں غار حرا سے اتر کر گھر کوٹے اور فرمایا مجھ پر کپڑا ڈال دور حضرت خدیجہ نے اپنے مقدس ترین خاوند کو فورا کپڑا اوڑھا دیا۔جب ذرا اطمینان ہوا تو حضور نے سارا ماجرا کہہ سنایا اور فرمایا مجھے تو اپنے نفس کے متعلق ڈر پیدا ہو گیا ہے مگر حضرت خدیکر نہ جو آنحضور لله الخصائص الكبرى للسيوطي جلدا صفحه ۲۲۶ (ترجمه) زرقانی شرح مواہب اللدنیہ جلدا من و بحر محیط جلد ۲ صفحه ۲۹