حضرت امام حسین ؓ کا عظیم الشّان مقام — Page 7
اور حرکت کرتے اور لاڈ پیار کرتے ہوئے دیکھتے تھے اور یوں لگتا تھا کہ تمام صحابہ کی آنکھوں میں دل پگھل پگھل کر آرہے ہیں وہ طرز بیان بتاتی ہیں کہ غیر معمولی عشق تھا۔پس وہی اہل بیت ہیں وہی صحابہ ہیں۔آنحضور کے وصال کے بعد تمہیں کیا جنون کو دا ہے کہ انہی اہل بیت اور انہی صحابہ کو ایک دوسرے کے دل پھاڑنے کے لئے استعمال کرنے لگے ہو وہ تو محبتوں کے پیغمبر تھے۔عشق کے سمندر تھے۔تم نے انہیں نفرتوں کے سمندر میں تبدیل کر دیا ہے۔پس آج امت محمدیہ " کو یہ باتیں سمجھانے کی ضرورت ہے ورنہ یہ امت ، امت محمدیہ کہلانے کی مستحق نہیں رہے گی۔ابھی چند دنوں تک آپ دیکھیں گے کہ محترم کے جلوس کراچی میں بھی نکلیں گے ، خیر پور میں بھی نکلیں گے ، ملتان میں بھی نکلیں گے، بہاول پور میں بھی اور لاہور میں بھی اور ہر جگہ غیر معمولی طور پر پولیس کی طاقت دو نفرت کرنے والے سمندروں کے بیچ میں دیوار کی طرح حائل ہوگی اور پھر وہ ینغِیانِ ہوں گے وہ ایک دوسرے کے خلاف بغاوت کریں گے اور ان دیواروں کو توڑ کر ان کی نفرتیں پھلانگتی ہوئی دوسرے کے امن کو پارہ پارہ کر دیں گی اور اُن کی زندگیوں کو زہر آلود کر دیں گی۔یہ کیا دن ہیں اور ان دنوں کے کیا تقاضے ہیں اور کیا یہ حرکتیں ہیں جو ان دنوں میں جاری ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر یہ ظالم ملاں یہ الزام لگاتے ہیں کہ آپ نے اہل بیت کی عزت کی نہ صحابہ کی کی۔ان کی یہ اہل بیت کی عرب تیں اور صحابہ کی عرب تیں تو ہر روز برسرِ عام گلیوں میں پھرتی ہیں اور جو کچھ کسر رہ جاتی ہے وہ محترم کے دنوں میں طشت از بام ہو جاتی ہے۔کچھ بھی لکا چھپا باقی نہیں رہتا۔مگر حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ اور آگے آپ کے اہل بیت کے عشق میں حضرت مسیح موعود کی جو پاکیزہ تحریریں ہیں اُن پر جو مہریں لگائی گئی ہیں اُن پر تالے لگا دیئے گئے ہیں جو عشق کے اظہار میں انہیں اجازت نہیں کہ گلیوں میں کھل کر نکلیں۔جو نفرتوں کے پیغام ہیں وہ گلیاں اُن کی ہیں وہ صحن اُن کے ہیں جب چاہیں جس طرح چاہیں نفرتوں کا اظہار جس ملک میں چاہیں کرتے پھریں یہ بڑا ظلم ہے یہ خود کشی ہے ایک۔پس آج کے خطبہ کے لئے میں نے حضرت مسیح موعود کی چند تحریریں چنیں ہیں جو میں