حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ

by Other Authors

Page 46 of 69

حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 46

90 89 نے اس کے جواب میں ۲۴ جون کو مندرجہ ذیل تعزیت کا تار روانہ فرمایا۔مولوی شیر علی صاحب کا تار حافظ روشن علی صاحب کی وفات کے متعلق پہنچا۔انـــا الله و انـــا اليـــه راجعون۔مجھے بہت ہی افسوس ہے کہ میں وہاں موجود نہیں ہوں تا کہ اس قابل قدر دوست اور زبر دست حامی اسلام کی نماز جنازہ خود پڑھا سکوں۔حافظ صاحب مولوی عبد الکریم صاحب ثانی تھے۔اور اس بات کے مستحق تھے کہ ہر ایک احمدی انہیں نہایت ہی عزت و توقیر کی نظر سے دیکھے۔انہوں نے اسلام کی بڑی بھاری خدمت سرا نجام دی ہے۔اور جب تک یہ مقدس سلسلہ دنیا میں قائم ہے انشاء اللہ ان کا کام کبھی نہ بھولے گا ان کی وفات ہمارے سلسلہ اور اسلام کے لئے ایک بڑا صدمہ ہے لیکن ہمیشہ ایسے ہی بڑے صدمے ہوتے ہیں۔جنہیں اگر صبر کے ساتھ برداشت کیا جائے تو وہ خدا تعالیٰ کے فضلوں کے جاذب بن جاتے ہیں۔ہم سب فانی ہیں۔لیکن جس کام کے لئے ہم کھڑے کئے گئے ہیں۔وہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے جو موت و حیات کا پیدا کرنے والا ہے اور وہ غیر معلوم اسباب کے ذریعہ اپنے کام کی تائید کرے گا۔چونکہ ہماری جماعت ہمارے پیارے اور معزز بھائی کی خدمات کی بہت ممنون ہے۔اس لئے میں درخواست کرتا ہوں کہ تمام دنیا بھر کی احمد یہ جماعتیں آپ کا جنازہ پڑھیں۔یہ آخری خدمت ہے جو ہم اپنے مرحوم بھائی کی ادا کر سکتے ہیں۔لیکن یہ بدلہ ان بیش قیمت خدمات کے مقابلہ میں جو انہوں نے اسلام کے لئے کیں کیا حقیقت رکھتا ہے۔میں احباب کے ساتھ سری نگر میں نماز جنازہ پڑھوں گا اگر لاش کے متغیر ہو جانے کا خوف نہ ہوتا۔تو التوائے تدفین کی ہدایت دے کر میں اس آخری فرض کو ادا کرنے کے لئے خود قادیان آتا۔اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر جو ہم سے رخصت ہو گئے ہیں اور ان پر بھی جو زندہ ہیں اپنی رحمتیں نازل فرمائے۔“ الفضل ۲۸ / جون ۱۹۲۹ء ص ۱) نماز جنازه و تدفین : حضرت حافظ صاحب کے رشتہ داروں کو آپ کی آخری زیارت اور نماز جنازہ میں شرکت کا موقعہ دینے کی غرض سے ۲۴ / جون ۱۹۲۹ء کی گاڑی تک انتظار کیا گیا۔گیارہ بجے کے قریب آپ کا جنازہ حضرت نواب محمد علی خان صاحب کی کوٹھی سے کہ جہاں آپ آخری دنوں میں مقیم تھے اٹھایا گیا۔قادیان اور بیرونی جماعتوں کے احباب کی ایک کثیر تعدا د ساتھ تھی۔جن کے کندھوں پر یہ جسم اطہر باری باری منتقل ہوتے ہوئے باغ میں پہنچایا گیا۔جہاں