حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 47
92 91 حضرت مولانا شیر علی صاحب امیر مقامی نے ہزاروں افراد کی معیت میں نماز جنازہ ادا کی۔اور اس کے بعد مسیح وقت کے اس بے مثال شیدائی - دربار خلافت کے انمول رتن میدان تبلیغ کے عظیم سالار عظیم شاگردوں کے عظیم اور مشفق استاد، ہمدرد خلائق وجود اور رسول و قرآن کے عاشق صادق کو بہشتی مقبرہ کی پاک سرزمین میں سپردخاک کر دیا گیا۔اور اس طرح وہ پاک قطعہ زمین آپ کی آخری آرام گاہ بنا۔جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تحریر فرمایا کہ: ایک جگہ مجھے دکھلائی گئی اور اس کا نام بہشتی مقبرہ رکھا گیا۔اور ظاہر کیا گیا کہ وہ ان برگزیدہ جماعت کے لوگوں کی قبریں ہیں جو بہشتی ہیں۔“ (الوصیت ) پھر فرمایا : میں دعا کرتا ہوں کہ اے میرے قادر خدا اس زمین کو میری جماعت میں سے ان پاک دلوں کی قبریں بنا جو فی الواقع تیرے لئے ہو چکے۔اور دنیا کی اغراض کی ملونی ان کے کاروبار میں نہیں۔آمین یارب العالمین۔“ ( الوصیت ) جماعت کی طرف سے غیر معمولی طور پر غم والم کا اظہار : حضرت حافظ صاحب گونا گوں صفات کے مالک تھے اور نہ صرف نیکی و تقوی اور علم و قابلیت کے لحاظ سے ایسے انسان تھے۔جو دنیا میں کبھی کبھار پیدا ہوتے ہیں بلکہ مفید خلائق اور نیکی کے مجسمہ تھے۔آپ کے احسانات اپنوں اور غیروں قریباً سب پر تھے۔اس لئے آپ کی وفات کا صدمہ غیر معمولی طور پر محسوس کیا گیا۔حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوۃ والسلام ،حضرت مولانا نورالدین صاحب خلیفہ اصیح الاول اور حضرت مولانا عبدالکریم صاحب کے صدمات کے بعد اس صدمہ نے جماعت کے افراد کے دلوں کو ہلا دیا اور ہر طبقہ اور ہر پیش کے لوگوں نے اس صدمہ کو اپنے لئے ایک عظیم صدمہ قرار دیا۔میں اپنے مفوضہ کام کی وجہ سے الفضل اور الحکم کے فائلوں کا اکثر مطالعہ کرتا رہتا ہوں۔میں نے محسوس کیا ہے کہ جس صدمہ کا اظہار آپ کی وفات پر کیا گیا وہ عظیم ہے اور یہ اس بات کی شہادت ہے کہ آپ کا وجود کوئی عام وجود نہ تھا۔بلکہ ایسا وجود تھا جسے خدا تعالیٰ اپنی کسی مصلحت کی بناء پر کبھی کبھار دنیا میں بھیجتا ہے۔اور جب وہ اسے واپس بلا لیتا ہے تو صدیوں تک اس کا انتظار کیا جاتا ہے۔روز نامہ الفضل نے آپ کی وفات کے صدمہ کو غیر معمولی سانحہ اور روح میں کپکپی پیدا کر دینے والا واقعہ قرار دیتے ہوئے لکھا: آہ! علم و حکمت کا وہ آفتاب جو چھوٹے بڑے امیر وغریب اپنے پرائے سب کے لئے یکساں ضوفشاں تھا - ۲۳ / جون کی شام کو صلح عالم سے ہمیشہ کے لئے غروب ہو گیا۔یعنی علامہ حافظ روشن علی صاحب کا انتقال ہو گیا۔انا لله و انا اليه راجعون حضرت حافظ صاحب کیا بلحاظ تقوی وطہارت اور کیا بلحاظ علم و قابلیت