حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ

by Other Authors

Page 45 of 69

حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 45

88 87 شب و روز کی توجہ کے نتیجہ میں بیماری میں افاقہ ہونا شروع ہوا۔اور صحت میں ترقی گو بتدریج ہو رہی تھی لیکن بہر حال یہ امید بندھنے لگی کہ تھوڑے عرصہ میں اگر خدا تعالیٰ نے چاہا تو آپ کو کامل شفا ہو جائے گی۔حضرت حافظ صاحب کو علاج کے نتیجہ میں اس قد رافاقہ ہو گیا تھا کہ آپ نے جلسہ سالانہ ۱۹۲۸ء میں بطور سا مع شرکت فرمائی لیکن جلسہ سالانہ کے اگلے روز یعنی ۲۹ / دسمبر ۱۹۲۸ء کی شام کو دماغ میں جریان خون کی وجہ سے آپ کے دائیں جانب فالج کا شدید حملہ ہوا۔جس کی وجہ سے گویائی پر بھی برا اثر پڑا۔اور بیماری دوبارہ تشویشناک صورت اختیار کر گئی۔لیکن چند گھنٹہ کی تگ و دو اور طبی امداد کے نتیجہ میں قدرے افاقہ کی صورت پیدا ہوگئی۔اور بعد میں بتدریج صحت میں ترقی ہوتی گئی۔قوت گویائی میں بھی نمایاں فرق پڑ گیا۔ہاتھ پاؤں میں حرکت پیدا ہوگئی۔اور وہ وقت بھی آ گیا کہ آپ چھڑی کا سہارا لے کر چل پھر بھی لیتے تھے۔۱۹۲۹ ء کی شوریٰ میں آپ نے شمولیت فرمائی اور حسب معمول تلاوت قرآن کریم بھی کی۔آپ نے ۱۴ ر ا پریل ۱۹۲۹ء کو ڈاکٹر میجر شاہ نواز صاحب کو اپنی صحت کے متعلق لکھا کہ : میری صحت اب محض خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ ترقی کر رہی ہے۔قریباً پچاس قدم تک لاٹھی کے سہارے چل سکتا ہوں۔امید ہے وہ قا در خدا بہت جلد صحت دے گا۔تیل عازف کی مالش ہو جاتی ہے۔یہ خدا کا فضل تھا جو مجھ پر ہو گیا۔ورنہ ایسی بیماری میں جانبر ہونا مشکل نظر آتا تھا۔آب دعا جاری رکھیں۔“ - الفضل ۴ اکتوبر ۱۹۲۹ ، ص ۷ ) بہر حال صحت میں بتدریج اضافہ ہوتا گیا۔لیکن جون ۱۹۲۹ء میں وفات سے کچھ دن قبل عوارض نے اچانک ایسی صورت اختیار کر لی کہ دوا تک جسم کے اندر پہنچانا محال ہو گیا۔اور چند ہی روز میں آپ شدید نڈھال ہوئے۔علاج معالجہ بے کا ر ہو کر رہ گیا۔آخر اللہ تعالیٰ کی مشیت پوری ہوئی۔اور آپ ۲۳ / جون ۱۹۲۹ء کی شام کو حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے اپنے مالک حقیقی سے جاملے اور اس طرح یہ علم و فضل کا آفتاب جو چھوٹے بڑے امیر وغریب اپنے اور پرائے سب کو یکساں طور پر اپنے خدا تعالیٰ کے نور سے مستفید کر رہا تھا۔صفحہ عالم سے ہمیشہ کے لئے غروب ہو گیا - انا لله و انا اليـــه راجعون - آخر وقت تک آپ کے حواس قائم تھے۔اور آپ اپنے شاگردوں اور دوسرے پاس بیٹھنے والوں سے باتیں کرتے رہے۔آپ کی گفتگو سے معلوم ہوتا تھا کہ نہ صرف آپ کو اس دنیائے فانی سے کلی انقطاع کا علم ہو چکا ہے۔بلکہ آپ اس کے لئے بے تاب و بے قرار ہیں۔حضور کا تعزیتی تار حضرت حافظ صاحب کی وفات کے موقع پر حضرت خدید امتع الثانی رضی اللہ عنہ سری نگر کشمیر میں تھے۔چنانچہ مقامی امیر جماعت مولانا شیر علی صاحب نے آپ کو اس صدمہ جانکاہ کے متعلق بذریعہ تا ر ا طلاع دی۔آپ -