حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ

by Other Authors

Page 48 of 69

حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 48

94 93 اور کیا بالحاظ عادات و اخلاق ایسے انسان تھے جو خدا تعالیٰ کی خاص جماعتوں میں بھی خاص طور پر ہی پیدا کئے جاتے ہیں۔باوجود اس کے کہ آپ آ نکھوں سے قریباً معذور تھے اور لکھ پڑھ نہیں سکتے تھے پھر بھی آپ کی دینی علمیت اور قابلیت کا یہ عالم تھا کہ غیروں کو بھی کھلے دل سے اس کا اعتراف تھا۔آپ کے بے شمار شاگردوں کو ہی آپ کی ذات پر فخر نہ تھا بلکہ آپ کے استاد حضرت خلیفہ امسیح الا ول کو بھی آپ پر ناز تھا اور سچ تو یہ ہے کہ اس بے نظیر استاد کے بے نظیر شاگرد نے جس طرح حیرت انگیز طریق سے اپنے استاد سے علم حاصل کیا اسی طرح مخلوق خدا کو کھلے دل سے مستفیض بھی کیا۔اس وقت نہ صرف قادیان میں بلکہ ساری جماعت میں ایسے لوگ کم ہی ہوں گے جنہوں نے آپ سے کچھ نہ کچھ نہ سیکھا ہو۔بلکہ بہت سے غیر از جماعت لوگوں کو بھی آپ سے بہت کچھ سیکھنے کا موقعہ ملا۔ایسے مفید خلائق اور نیکی مجسم انسان کا انتقال کوئی معمولی سانحہ نہیں جسموں کو ہلا دینے والا اور روح میں کپکپی پیدا کرنے والا واقعہ ہے کوئی شخص جو آپ سے تھوڑا بہت بھی تعارف رکھتا ہوا ایسا نہ ہو گا جسے آپ کی وفات کی خبرسن کر رنج و غم نہ ہو گا لیکن وہ جنہیں آپ سے روحانی فیض پہنچا۔وہ جن کے لشکر کا یہ فتح نصیب جرنیل ہی نہیں بلکہ جرنیل گر تھا۔ان کے غم والم کا کون اندازہ کر سکتا ہے۔آہ! آج دربار خلافت کا ایک محبوب رتن چل بسا - آہ! آج ہمارے بزرگ ترین علماء کی بزم کو ایک چوٹی کا عالم خالی کر گیا۔آہ ! آج ہمارے تبلیغ اسلام کے مجاہدوں کا سرلشکر اپنے جرنیلوں کو داغ مفارقت دے گیا۔آہ! آج احباب کی محفل کو اپنی خوش گفتاری سے گرمانے والا اور خوش کلامی سے افسردہ دلوں کو ہنسانے والا ہمیشہ کے لئے خموش ہو گیا۔آہ ! آج چھوٹوں کا شفیق اور ہم عصروں کا رفیق اٹھ گیا۔پھر کون ہے جو رنج والم سے نڈھال نہ ہوا اور کون ہے جس کے لئے آپ کی مفارقت کا صدمہ جا کاہ نہ ہو۔لیکن بلانے والا ہے سب سے پیارا اسی پہ اے دل تو جاں فدا کر اس لئے دل دوز آہ کے ساتھ ہر ایک کے منہ سے صرف إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجَعُونَ نکل رہا ہے۔ہمارے دل میں درد، آنکھوں میں آنسو اور لب پر آہ ہے لیکن اس موت پر رشک بھی ہے۔واللہ! جی چاہتا ہے ہم میں سے ہر ایک کی موت ایسی ہی موت ہو کہ خدا کی راہ میں اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ صرف کر دینا اور مخلوق خدا کی خدمت گذاری میں گداز ہو کر مرنا دراصل مرنا نہیں بلکہ جینا ہے اور جسے یہ زندگی حاصل ہو جائے اس سے بڑھ کر خوش قسمت اور کون ہوسکتا ہے۔علامہ مرحوم و مغفور کی صفات اور خوبیاں اتنی غیر معمولی ہیں کہ نہ تو کسی ایک مضمون میں ان کا احاطہ کیا جا سکتا ہے اور نہ رنج والم کی حالت میں ایسا کرنا ممکن ہے اس کے لئے سکون قلب کی ضرورت ہے اور امید ہے حضرت حافظ صاحب مرحوم کے مخلص دوست اور شاگردان رشید جن کا حلقہ بفضل خدا بہت وسیع ہے اس کام کو خوش اسلوبی سے سرانجام دیں گے۔“ الفضل ۲۸ / جون ۱۹۲۹ ، ص ۲) حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب نے آپ کی وفات پر