حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ

by Other Authors

Page 49 of 69

حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 49

96 95 اظہار غم ان الفاظ میں کیا ہے۔”دل حزیں میرا ہے آنکھ اشکبار ایک دم آتا نہیں مجھ کو قرار روح میری آج ہے اندوہ گیں کیا کہوں مجھ آه لب پر مصیبت کیا پڑی پر عشق تھا قرآں سے اس کی روح کو مرتبہ عالی وہ تھا اور داغدار کیوں تڑپ اٹھتا ہوں میں یوں بار بار کس کے غم میں حال میرا غیر ہے آہ ہم کس لئے روتا ہوں میں زار و نزار چھٹ گیا استاد وہ جس کے تھے احسان ہم پر بیشمار جس کی شاگردی ہمارا فخر تھا اس گلستاں کا وہ تھا گویا ہزار رکھتا تھا مگر جانتے سب ہیں کہ تھا وہ خاکسار امور دین میں غیور وہ گرچہ اپنی ذات میں تھا بردبار اس کے غم میں آج سب محزون ہیں دیکھتا جس کو ہوں خدمت دیں کے لئے وہ وقف تھا وہ ہے دلفگار چھوڑ کر دنیا کے سارے کاروبار اور سب کچھ کر چکا قربان جب نقد جاں بھی کر دیا آخر نثار صد مبارک تجھ کو اے روشن علی جس کی تلمیذی میں تھا اپنا وقار سرخرو ہے پیش کردگار حق تعالیٰ تجھے ނ خدمتیں تیری سبھی سبھی مقبول ہوں شہ سوار ہو تجھے حاصل رضا اللہ کی چل بسا ہے دار فانی چھوڑ کر وہ جو تھا اک دیں کا گوہر آبدار فوج حقانی کا واحد فرد فرد تھا خیل ربانی کا تھا درس و تدریس اس کا شغل تھا اتقا وہ اور زہد تھا اس کا شعار جاتا ہو راضی مدام پہ ہوں افضال اس کے بیشمار اور ہو خاصان حق میں تو شمار خوش ہو انبیاء کا تاجدار الفضل ۹؍ جولائی ۱۹۲۹، ص۲)