حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ

by Other Authors

Page 37 of 69

حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 37

72 71 کلاس میں اور کوئی نہیں۔میں اسے کہاں سے تلاش کروں گا۔آپ نے فرمایا کوشش کرو۔میں تمہیں اس لئے یہ کام کرنے کی ہدایت کر رہا ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ من كان في عون عمده كان الله في عونه جو شخص خدا کے کسی کمزور بندہ کی اعانت کرتا ہے خدا تعالیٰ اسے اپنی مدد سے نوازتا ہے۔سواگر تم کسی کمزور طالب علم کو محنت کراؤ گے اور اسے کامیابی حاصل کرنے کے قابل بنا سکو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو تمہاری کمزوریوں کے باوجود کامیاب کرے گا۔اور پھر میں دعا بھی کروں گا۔مولوی صاحب نے بتایا کہ میں نے اپنے سے کمزور طالب علم تلاش کرنے کی کوشش کی مگر وہ نہ ملا۔اتفاقاً ایک طالب علم نے مجھ سے ہوشیار تھا۔لیکن ایک پرچہ میں کمزور تھا۔مجھے کہا کہ فلاں کتاب ہم مل کر پڑھ لیں۔چنانچہ میں نے اس کی بات مان لی اور جب امتحان کا نتیجہ نکلا تو میں خدا تعالیٰ کے فضل سے کامیاب ہو گیا۔اور یہ سب کچھ حضرت حافظ صاحب کی دعا اور آپ کی بتائی ہوئی تدبیر اختیار کرنے کا نتیجہ تھا۔فرائض منصبی کا احساس آپ کو اپنے فرائض منصبی کا بہت احساس تھا۔آپ اپنے کاموں کو بیگار کی طرح سرانجام نہ دیا کرتے تھے بلکہ اپنا کام سمجھ کر اور سنوار کر کرتے اور اپنی ضروریات آرام اور آسائش کو فرائض منصبی کے لئے قربان کرتے۔بیمار ہوتے۔سفر سے واپس آتے اور تھکے ہوئے۔لیکن آپ نے کبھی اپنے فرائض منصبی سے رخصت حاصل نہ کی۔رخصت کے نام سے آپ کو چڑ تھی۔آپ اپنے شاگردوں کو بھی نصیحت فرماتے کہ رخصت کا نام نہ لیا کرو۔زندگی میں تمہارے لئے رخصت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ہاں موت کے بعد تم مکمل آرام کر سکتے ہو۔آپ کام کرنے میں راحت پاتے تھے۔محنت آپ کی غذا تھی اور خدمت سلسلہ آپ کا نصب العین تھا۔آپ طالب علم کو جب وہ بیمار ہوتا۔رخصت دینے کی بجائے چار پائی پر لٹا دیتے۔لیکن درس میں ضرور شریک کرتے۔مرض الموت میں بھی جب کہ ڈاکٹروں نے حرکت کرنے سے بھی منع فرمایا تھا۔اپنے شاگردوں کی تعلیم و تربیت سے آپ غافل نہ ہوئے۔اپنے یا غیر کی خوشی اور آرام کی خاطر مفوضہ ڈیوٹی میں کوتاہی کرنے کو آپ گناہ کبیرہ سمجھتے۔اور فرمایا کرتے۔ہمیں وقات بہت کم دیا گیا ہے اور کام بہت زیادہ ہے اس لئے ہمیں اپنے وقت کو زیادہ سے زیادہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں صرف کرنا چاہئے تا خدا تعالیٰ کے سامنے ہمیں شرمندگی نہ ہو۔ایک موقعہ پر لجنہ اماءاللہ قادیان میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ : - اپنے فرائض منصبی کو پہچانو۔اور اس بات کو سمجھ لو کہ اگر تم نے اچھا نمونہ دکھایا تو آئندہ نسلیں اس سے فائدہ اٹھائیں گی۔اور اگر تم نے برانمونہ دکھایا۔تو آئندہ نسلوں کی گمراہی کا گناہ تم پر پڑے گا۔تم تمام سستیوں، جھوٹ ، غیبت ، چوری اور گلے وغیرہ کو چھوڑ دو تا خدا تعالیٰ تمہارا مددگار ہو اور تم پر اپنے فضلوں کی بارش کرے۔“ ( الفضل ۷ را پریل ۱۹۲۵ء ص ۷ )