حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ

by Other Authors

Page 38 of 69

حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 38

74 73 قناعت : آپ کو قناعت کا مادہ وافر طور پر عطا کیا گیا تھا۔آپ کو بہت کم گزارہ ملتا تھا اور دو بیویاں تھیں۔جن کے اخراجات آپ کے ذمہ تھے۔مگر آپ نے کبھی بھی کم گزارہ کا شکوہ نہ فرمایا۔بلکہ ڈاکٹر شاہ نواز صاحب فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ نماز تراویح اور درس القرآن کے اختتام پر کچھ رقم آپ کی خدمت میں پیش کرنے کی تحریک کی گئی۔تو فرمایا۔میں اس بات کو پسند نہیں کرتا۔مرکز والوں کی بات باہر والوں کے لئے حجت ہو جاتی ہے۔اس لئے اس رسم کا یہاں ڈالنا میرے نز دیک ٹھیک نہیں۔“ 66 (الفضل ۴ را کتوبر ۱۹۲۹ء ص ۷ ) حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ حیدر آباد کے کسی دوست نے یک صد روپیہ نذرانہ کے طور پر آپ کی خدمت میں پیش کیا۔لیکن آپ نے وہ رقم بیت المال میں جمع کرا دی اور اسے اپنی ذات پر خرچ نہ فرمایا اور کہا میں اپنا کوئی حق نہیں سمجھتا کہ ایسی رقم اپنی ذات پر خرچ کروں۔حدیث میں ایک عامل کا واقعہ آیا ہے اس سے یہ استدلال ہوتا ہے کہ اس قسم کے ہدیہ کو بیت المال میں داخل ہونا چاہئے۔(ملاحظہ ہوالحکم ۱۴ / مارچ ۱۹۳۴ء ص ۸ ) غرض کہ آپ کو جو کچھ ملتا تھا وہ گو آپ کی ضروریات کے لئے ناکافی تھا۔مگر آپ کی قناعت اور خودداری کا یہ حال تھا کہ آپ کہیں بھی کسی کے سامنے دست سوال دراز نہ کرتے۔انکسار آپ بحر العلوم تھے۔جماعت میں آپ کو نہایت احترام کی نظر سے دیکھا جا تا تھا۔لیکن آپ برتری کے کبھی خواہشمند نہ ہوئے۔اور کسی امتیاز کی آپ نے خواہش نہ کی۔آپ کو تبلیغ واشاعت کے کام اور اس کے خیال کے سوا اور کوئی تڑپ نہ تھی۔اور اس بات کا جوش تھا کہ جن علوم سے اللہ تعالی نے آپ کو بہرہ مند کیا ہے انہیں دوستوں تک پہنچا ئیں اگر کوئی آپ کی تعریف کرتا۔تو اسے منع فرما دیتے یا ذکر الہی میں اور دعا میں مصروف ہو جاتے۔کبھی کسی شاگرد سے بات کر کے تعریف کرنے والے کی توجہ کو کسی دوسری طرف مبذول کرنے کی کوشش فرماتے۔سفروں میں اپنے رفقاء کار کا خاص خیال رکھتے اور انہیں یہ محسوس نہ ہونے دیتے کہ آپ ان کے امیر الوفد ہیں یا انہیں ان پر کوئی امتیاز حاصل ہے۔آپ کا کیریکٹر نہایت بلند اور بے داغ تھا۔ذمہ داری کی روح : - آپ میں ذمہ داری کا احساس نہایت اعلیٰ طور پر پایا جاتا تھا۔اور جو کام بھی آپ کے سپرد ہوتا۔اپنے آپ کو کلی طور پر ذمہ دار سمجھتے ہوئے اسے کرتے۔جماعتی کاموں میں اس احساس اور خیال سے حصہ لیتے کہ گویا خدا تعالیٰ نے آپ کو ہی ذمہ دار بنایا ہے۔اور حقیقت یہی ہے کہ جب تک قوم کا ہر فرد اس بات کو محسوس نہ کرے کہ سب کام اسے ہی کرنے ہیں۔اس وقت تک قوم ترقی نہیں کر سکتی۔آپ نے یہی وصف اپنے شاگردوں میں بھی پیدا کرنے