حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ

by Other Authors

Page 36 of 69

حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 36

70 69 آپ کی محبت الہی اور روحانیت کا عظیم نمونہ ہے۔آپ اپنے شاگردوں کو بھی خدا تعالیٰ سے زیادہ سے زیادہ تعلق پیدا کرنے اور اس کی رضا کو حاصل کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کرنے کی نصیحت فرمایا کرتے۔مولانا جلال الدین صاحب شمس کو ملک شام میں تبلیغ کے لئے روانہ ہوتے وقت نصائح آپ نے فرما ئیں ان میں سے ایک نصیحت یہ بھی تھی که: ایسی کوشش کرنا کہ خدا تعالیٰ سے براہ راست تعلق ہو جائے۔اس کے بغیر راحت حقیقی نہیں مل سکتی۔“ الفضل ۲۶ ؍ جولائی ۱۹۲۹ء ص ۲) خدا تعالیٰ کے وعدوں کو اور اس کی پیشگوئیوں کو پورا ہوتے دیکھ کر آپ بہت خوش ہوتے۔اور خدا تعالیٰ کی حمد وشکر میں لگ جاتے۔اور پھر ان کا ذکر مجالس میں کر کے آپ خوب مزے لیتے ، قادیان کے متعلق آپ فرماتے ہیں : اگر قادیان لاہور یا امرتسر کی طرح کوئی شہر ہوتا۔یا کم از کم ریل گاڑی کا اسٹیشن ہی ہوتا تو میں کہتا کہ یہاں جو آیا ہے آرام کی خاطر اتر آیا ہو گا۔لیکن اب جب کہ یہاں تک آنے کے لئے پکی سڑک بھی نہیں ہے۔یکہ پیچھے پہنچتا ہے اور پیدل انسان پہلے آ جاتا ہے۔مگر لوگ جوق در جوق آتے ہیں۔تو میں عجب مزے لوٹتا ہوں اور ياتين من كل فج عمیق کی عجیب حلاوت حاصل کرتا ہوں۔“ الفضل ۳۰ / جنوری ۱۹۱۶ ء ص ۸) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دعا کا ذکر فرماتے ہوئے کہتے ہیں کہ : تم جانتے ہو کہ یہ ریلیں اور تاریں کیوں بنیں۔ان کے بننے کی وجہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جہاد کو نکلے تو آپ کے دوستوں کو تکلیف ہوئی۔آپ نے دعا کی اللهم اطولنا الارض اے خدا ہمارے لئے زمین کو لپیٹ دے۔پس یہ آپ ہی کی دعا کی برکت ہے۔میں تو جب ریل پر سوار ہوتا ہوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتا ہوں۔(الفضل ۳۰ جولائی ۱۹۱۶ ء ص ۱۱) آپ دعا کے ساتھ ساتھ تدبیر کو بھی اختیار کرنے کے قائل تھے۔اور تد بیر کو دعا کے لئے ایک ضروری ہتھیار خیال فرماتے تھے۔مکرم مولوی محمد حسین صاحب فاضل ربوہ نے مجھ سے بیان کیا کہ جب میرا مولوی فاضل کا امتحان ہونے والا تھا تو میں حضرت حافظ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔اور عرض کیا کہ میں فلاں فلاں پر چہ میں بہت کمزور ہوں۔اور بظاہر حالات کامیابی کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔آپ دعا فرمائیں کہ خدا تعالیٰ مجھے امتحان میں کامیابی عطا فرمائے۔حضرت حافظ صاحب نے فرمایا۔بہت اچھا میں دعا کروں گا اور مجھے امید ہے کہ تم کامیاب بھی ہو جاؤ گے۔لیکن ایک کام کرو۔اور وہ یہ کہ اپنے سے کسی کمزور طالب کو کسی پر چہ کی تیاری کروا دو۔مولوی صاحب فرماتے ہیں میں نے عرض کیا حافظ صاحب مجھ سے زیادہ کمزور لڑکا