حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 30
58 57 آپ علی وجہ البصیرت اس بات پر قائم تھے کہ : نبی بنانا بھی اللہ کا کام ہے اور نبی کا نائب بنانا بھی اسی کا فعل ہے جیسے نبی کی نبوت کا ثبوت اللہ تعالیٰ اپنی خاص نصرت سے دیتا ہے۔ایسے ہی ان کے جانشینوں کا ثبوت بھی اپنے فعل سے وہ دیتا ہے کیونکہ اس نے اپنے کلام میں یوں فرمایا ہے کہ خلیفہ میں بناؤں گا اور میں ہی ان کو تمکنت بخشوں گا۔“ آپ کے دل میں خلافت کا احترام اور اس کی اہمیت کا احساس احد تک پایا جاتا تھا کہ آپ نے فرمایا: جس مسجد میں امام خلیفہ ہو اس میں دوسری جماعت مکروہ ہے۔“ الفضل ۶ / جنوری ۱۹۲۱ء ص ۱۷) آپ نے اپنی زندگی میں کئی مباحثے غیر مبائعین سے کئے اور مولوی محمد علی صاحب ایم اے، اور ان کے رفقائے کارکو کھلی چٹھیاں لکھ کر اختلاف کو دور کرنے کی دعوت دی۔آپ کی ان کوششوں کے نتیجہ میں ایک خاصی تعداد غیر مبائعین کی بیعت میں شامل ہوئی۔آپ کی انہی سرگرمیوں کی وجہ سے آپ کو پیغام صلح نے یہ سرٹیفیکٹ دیا کہ : حافظ روشن علی صاحب ایک متشد دمحمودی تھے۔محمود یت کی حمائت میں انہوں نے ہمیشہ غالیانہ سپرٹ کا اظہار کیا۔“ ( پیغام صلح ۹ ر جولائی ۱۹۲۹ء ) انصار اللہ کی ابتدائی تنظیم میں آپ کی خدمات : ۱۹۱۱ء میں بعض جماعتی حالات کو مدنظر رکھ کر حضرت خلیفۃالمسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے حضرت خلیفہ اول کی منظوری اور اجازت سے ایک انجمن کا قیام عمل میں لایا جس کا نام انصار اللہ رکھا گیا۔اس انجمن کے اہم فرائض میں سے تبلیغ کے کام کو وسیع کرنا جماعت کی تعلیمی حالت کو ترقی دینا۔باہمی اتحاد پیدا کرنا۔ذکر الہی پر زور دینا اور خلیفہ وقت کی اطاعت کرنا تھا ( تفصیل کے لئے دیکھیں احکام ۲۱/۲۸ فروری ۱۹۱۱ء ) اس انجمن کے ابتدائی ممبر صرف نو تھے۔انجمن کی صدارت سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے پاس تھی۔اور اس کے جنرل سیکرٹری حضرت حافظ روشن علی صاحب تھے۔حضرت حافظ صاحب نے صدرانجمن کی ہدایت کی روشنی میں انصار اللہ کے کام کو وسیع پیمانہ پر چلایا اور ممبروں کی تعداد میں نہ صرف جلدی خاصا اضافہ ہو گیا بلکہ ان کی دینی روح جوش اور ولولہ پہلے کی نسبت بہت زیادہ بڑھ گیا۔اس انجمن نے مویدین خلافت کی تربیت کر کے انہیں اس طرح مضبوط کیا کہ باہمی اختلاف کرنے والوں کی امیدیں خاک میں مل گئیں۔بیرونی تبلیغ کے سلسلہ میں ابتدائی مشن اسی انجمن کی کوششوں سے قائم کئے گئے۔اسی طرح جماعت احمدیہ کی تبلیغ کی عمارت کی بنیادیں تعمیر کرنے والے یہی انصار اللہ کے چند ممبر تھے۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۱۹۱۲ء میں سفر حج کے لئے تشریف لے گئے تو آپ نے اپنی غیر حاضری میں قرعہ کے ذریعہ حضرت حافظ روشن علی صاحب کو امیر انصار اللہ مقرر فرمایا اور دوسرے ممبران کو آپ کی پوری اطاعت کرنے کی ہدایت فرمائی۔(ملاحظہ ہو الحکم ۷ ستمبر ۱۹۱۲ ء ص ۵)