حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ

by Other Authors

Page 31 of 69

حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 31

60 59 تعلیمی دوره: اپریل ۱۹۱۲ء میں حضرت امیر المومنین خلیفہ اسی الثانی رضی اللہ تعالی عنہ کی قیادت میں ایک چھ رکنی تعلیمی وفد نے ہندوستان کی عربی درس گاہوں کا دورہ کیا۔اور مدرسہ احمدیہ کی ترقی کے سلسلہ میں نصاب اور طرز تعلیم کے متعلق معلومات مہیا کیں۔یہ وفد ۲ را پریل ۱۹۱۲ء کو قادیان سے روانہ ہوا اور ۲۹ / اپریل ۱۹۱۲ء کو واپس آیا۔اس وفد کے ارکان میں سے جن کا انتخاب حضرت خلیفہ اول کے مشورہ سے عمل میں لایا گیا تھا۔ایک رکن حضرت حافظ روشن علی صاحب بھی تھے۔آپ نے اس دورہ میں لکھنو ، کانپور، دہلی اور سہارنپور کے مدارس کے علاوہ دیوبند کے مشہور عالم عربی مدرسہ کا بھی معائنہ کیا۔اور ضروری معلومات حاصل کیں۔اس دورہ کے دوران بعض تبلیغی اغراض سے یہ وفد بنارس ، ہر دوار، گور وکل، شاہجہانپور، رامپور اور امروہہ بھی گیا۔(تفصیل کے لئے دیکھیں الحکم ۱۴ / اپریل وے رمئی ۱۹۱۲ء) محکمہ قضا کے انچارج ۱۹۱۹ء میں جماعت کی وسعت کے پیش نظر اس کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے قادیان اور بیرون جات کے احباب کے مشورہ سے سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفہ ایسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جدید انتظام قائم کیا۔آپ نے مرکز میں نظارت سسٹم قائم کیا اور پھر اس کے ماتحت بعض اور ضروری شعبہ جات قائم کئے تو حضرت حافظ روشن علی صاحب کو حضور نے افتاء کے فرائض سپر د کئے۔(ملاحظہ ہو الفضل ۵/جنوری ۱۹۱۹ء) آپ قاضی کے عہدہ کے لئے نہایت موزوں فرد تھے۔جماعت کے احمدی بچے جوان بوڑھے آپ سے محبت رکھتے تھے۔اور دل و جان سے آپ کی خوبیوں کے قائل تھے۔آپ نہایت بے شر تھے۔کسی سے آپ کا جھگڑا نہ تھا۔طبیعت نہایت مستغنی تھی۔کسی سے لالچ نہ تھا۔اور پھر اس کے ساتھ ساتھ آپ بڑے وجیہہ اور بارعب تھے۔اور ایسے جذب اور کشش کے مالک تھے کہ ہر شخص آپ کی بات ماننے پر ہر وقت تیار ہو جاتا۔چنانچہ آپ نے اپنی زندگی میں سینکڑوں لوگوں کے تنازعات کو بڑی کامیابی سے فیصل کیا۔بہت سے لوگ آپ سے اپنے خانگی معاملات میں مشورہ بھی لیتے تھے۔اور آپ پوری توجہ سے نہایت صائب مشورہ عطا فرمایا کرتے تھے۔آپ ان کی خوشی اور غمی کی تقریبات میں شامل ہوتے اورعوامی مجالس میں ان کی نمائندگی کرتے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ نے جب قرآن کریم حفظ کیا تو اہالیان قادیان نے اپنی طرف سے حضرت حافظ روشن علی صاحب کو حضور کی خدمت میں مبارک باد پیش کرنے کے لئے نمائندہ مقرر فرمایا۔(ملاحظہ ہو الفضل ۲۱ - ۱۷/ اپریل ۱۹۲۲ء ص ۱) ان وجوہ کی بناء پر آپ کے فیصلہ سے لوگ مطمئن ہو جاتے تھے اور انہیں کوئی شکوہ باقی نہیں رہتا تھا۔انہیں اس بات کا احساس ہو جاتا تھا کہ حق دار کو حق دے دیا گیا ہے اور کسی سے کوئی زیادتی نہیں ہوئی۔اور جس قاضی کے متعلق عوام میں یہ احساس پیدا ہو جائے۔اس سے بڑھ کر کامیاب قاضی اور کون ہوسکتا ہے۔۔