حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ

by Other Authors

Page 29 of 69

حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 29

56 55 حرَقْتُ فِي نَارٍ أَذَابَتْ مُهْجَتِي! وَغَدَا بِمَوْتِكَ صَبْرُنَا لَا يَرْجِعُ وَصَلَتْ إِلَيْكَ يَدْسَوَاءٌ عِندَهَا أَسَدٌ حَصْوُرٌ أَوْ عُذَابٌ أَبْقَعُ كُنَّا نَرَاكَ مَاتَلُمْ مُصِيبَةٌ إِلَّانَفَاهَاعَنُكَ قَلْبٌ أَشْجَعُ مَنْ لِلْمُنَاظِرِ وَالْمُبَارِ زِ بَعْدَانُ فَقَدَتْ بِفَقَدِكَ نَيْرٌ لَا يَطْلُعُ يَارَبَّنَا ارْحَمُ وَاسِعَامُتَوَا افِراً تالیف ہے۔آپ نے ایک موقعہ پر فرمایا تھا کہ : فقہ کے معنے اصل تو سمجھنے اور سمجھ دار ہونے کے ہیں۔مگر مسلمانوں کی اصطلاح میں فقہ ان احکام کے مدلل جاننے کا نام ہے جو عمل سے تعلق رکھتے ہوں۔فقیہہ اس کو کہتے ہیں جو علم احکام دلیل کے ساتھ رکھتا ہو۔“ (الفضل ۹؍ مارچ ۱۹۲۲ء ص ۹) وَاغْفِرْهُ غُفَرَاناً وَفَضْلُكَ أَوْسَعُ اور آپ سے واقفیت رکھنے والے جانتے ہیں کہ آپ ایک عظیم فقیہہ تھے۔خلافت کا احترام : وَاسْكُنُهُ فِي الْفِرْدَوْس فَضْلًا دَائِمًا فقہ میں آپ کا مقام : جوَارٍ أَحْمَدَ إِنَّهُ يَتَشَفَّعُ : الفضل ۳۰ / دسمبر ۱۹۲۹ ، ص ۱) فقہ میں آپ کا مقام جماعت میں بہت بلند تھا۔آپ اس علم میں عظیم مجتہد تھے۔مدتوں آپ نے اس علم کی تحصیل کی اور بعد میں سالہا سال تک تدریس۔خلافت ثانیہ کے اوائل سے آپ کو سلسلہ احمدیہ کا مفتی مقرر کیا گیا تھا۔اور تا وفات آپ اس ممتاز عہدہ پر فائز رہے۔آپ کے فتاویٰ نہایت مختصر لیکن مدلل ہوا کرتے تھے اور آپ ان کے بارہ میں کسی اثر کو قبول نہیں فرماتے تھے۔آپ کی مشہور تالیف ” فقہ احمدیہ ہمارے جماعت میں فن فقہ پر واحد خلافت ثانیہ کے قیام کے وقت جب جماعت میں ایک زلزلہ آ گیا اور جماعت ایک عظیم فتنہ کا شکار ہوگئی تو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ خلافت کی تائید میں چیدہ چیدہ علماء نے کام کیا۔ان میں سے حضرت حافظ روشن علی صاحب کو خاص امتیاز حاصل ہے۔آپ نے ان دنوں میں جماعتوں کے دورے کر کے بچھڑے ہوئے بھائیوں کو جماعت کے شیرازہ میں لا کر شامل کیا۔اور بقول حضرت میر محمد الحق صاحب فاضل مرحوم ۱۹۱۳ء کے اختلاف کے موقع پر بہت سی روحوں کے حق پر قائم رہنے کا ثواب خدا چاہے تو آپ کو ہو گا۔