حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ

by Other Authors

Page 16 of 69

حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 16

30 29 مباحثات : حضرت حافظ صاحب بہترین مناظر بھی تھے اور مناظرہ میں نہایت سنجیدہ اور غیر دل آزار تھے۔آپ کی یہ صفات ایسی تھیں کہ مخالف دشمن کا بھی ان کا اعتراف کئے بغیر نہیں رہ سکا۔مولوی ثناء اللہ صاحب جن کے کئی ایک مباحثے آپ سے اور دوسرے احمدی مناظرین سے ہوئے۔انہوں نے آپ کی وفات پر جو نوٹ اپنے اخبار اہل حدیث میں لکھا۔اس میں آپ کی ان خوبیوں کو سراہا ہے۔آپ کسی مذہب کی برائی بیان کئے بغیر اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرنے کے ساتھ دوسرے مذہب کی تعلیم کو اس کی مسلمہ کتب سے ثابت کرتے تھے۔آپ نے اپنی زندگی میں بیسیوں مباحثے کئے جو غیر از جماعت علماء - عیسائی پادریوں اور آریوں سے ہوئے۔کئی ایک مناظروں میں اہل سنت والجماعت کی طرف سے پیش ہوئے۔لیکن کسی ایک موقعہ پر بھی مخالف فریق کو آپ کے خلاف کوئی شکایت کرنے کا موقعہ نہ ملا۔مئی ۱۹۱۸ء میں آپ نے گجرات میں پنڈت شانتی سروپ اور پنڈت پور نانند صاحب سے ایک مشہور مباحثہ کیا۔اس مباحثہ کے اختتام پر غیر از جماعت دوست اس قدر خوش ہوئے کہ آپ کو ہاتھوں پر آپ کی قیام گاہ تک پہنچانے کے لئے آمادہ وتیار ہو گئے۔(ملاحظہ ہو الفضل ۸ر جون ۱۹۱۸ ر۲) مارچ ۱۹۲۳ء میں آپ آریوں سے ایک مباحثہ کے لئے دوبارہ گجرات تشریف لے گئے۔آریہ مناظرین اس موقعہ پر مناظرہ سے کئی کترا گئے۔آپ نے اس موقعہ پر مسلمانوں کو آریوں کے مقابل پر اسلام کی تائید میں دلائل نوٹ کرانے اور آریہ مذہب سے واقفیت کرانے کے لئے ایک عظیم الشان لیکچر گجرات میں دیا۔اس کے متعلق گجرات کے ایک معز ز مسلمان جناب عبدالمالک صاحب شیخ نے لکھا۔صحیح معنوں میں اس شکریہ کے مستحق حافظ روشن علی صاحب ہیں جنہوں نے اپنی تقاریر و مواعظ میں کوئی ایسا کلمہ زیب گلو نہیں فرمایا جو کہ کسی عقیدہ کے آدمی کے لئے باعث تکلیف یا رنج و ملال ہووے۔بلکہ آریہ مذہب کی واقفیت جو انہوں نے عوام کو نہایت مؤثر و مدلل اور مفصل طریقہ سے کرائی اس پر ہر کس و ناکس کا دل عش عش اور صد مرحبا کے نعرے بلند کرتا ہے۔“ آپ نے لکھا کہ : گجرات کا ہر بندہ مسلم حافظ روشن علی صاحب کا ثناء خواں ہے اور وہ تمام شکریہ کے مدارج ان کی ہی خدمت میں بصدق دل پیش کرتا ہے۔گر قبول افتد ز ہے عز و شرف الفضل ۳ رمئی ۱۹۲۳ ، ص ۲) اپریل ۱۹۲۷ء کو آپ پٹھان کوٹ میں آریوں سے مباحثہ کے لئے تشریف لے گئے لیکن آریہ مناظر اپنے سابقہ تجربہ کی بناء پر اس مرد میدان کے ٹھوس علم اور مضبوط دلائل سے خوف زدہ ہو کر میدان چھوڑ گئے اس موقع پر