حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ

by Other Authors

Page 15 of 69

حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 15

28 27 میں دم کر دیا۔اور اپنے آپ کو بد قسمت شمار کیا۔بعض لوگوں کی زبان سے یہ الفاظ نکلے کہ یہ مضمون آب زر سے لکھنے کے قابل ہے۔(ملاحظہ ہو الفضل ۱۵ نومبر ۱۹۲۶، ص ۱۰) غرض آپ کی تقاریر نہایت مدلل نہایت موثر ، عالمانہ اور مستغنى عن التوصیف ہوتیں۔سامعین پر ان کی وجہ سے ایک خاص قسم کا وجد طاری ہو جا تا تھا۔حضرت حافظ صاحب کا طرز بیان نہایت عمدہ ہوتا تھا۔آپ اپنے لیکچر میں اپنے دلائل کو اس طور سے بیان کرتے کہ ہر سننے والا اپنی قابلیت اور استعداد کے مطابق اسے اپنے حافظہ میں محفوظ کرتا چلا جاتا۔اور جب تقریرین کر واپس آتا تو علم کا ایک خزانہ اپنے ساتھ لاتا۔چنانچہ آپ کے ایک لیکچر توحید باری تعالی کی روئیداد لکھتے ہوئے مکرم عبد العزیز صاحب سیکرٹری تبلیغ گجرات لکھتے ہیں کہ : 6 جناب حافظ صاحب کا طرز ادا بھی عجیب تھا۔آپ ایک دلیل بیان کرتے تھے اور اس ٹیچر کی طرح کہ جو کلاس کو کوئی سوال سمجھاتا ہے۔نہایت وضاحت سے صاف اور سادہ مثالوں سے اس پر روشنی ڈالتے۔اور سامعین کو ذہن نشین کراتے۔“ الفضل ۵/اکتوبر ۱۹۲۶ء ص ۸ ) جلسہ سالانہ قادیان کی اسٹیج پر آپ کو ۱۹۱۴ء سے ۱۹۲۷ء تک برابر چودہ سال تقاریر کرنے کا موقعہ ملا ہے۔۹ سال آپ نے صداقت مسیح موعود علیہ السلام کے موضوع پر تقریریں کی۔لیکن ہر بار آپ نے نئے انداز اور نئے معیاروں سے اس مضمون کو بیان کر کے سامعین کو محظوظ کیا۔آپ نے اپنی ایک تقریر میں اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ آپ نے اپنی تقریر کے لئے کیوں صداقت مسیح موعود کا موضوع تجویز کیا ہے۔آپ فرماتے ہیں : حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا سچا ثابت ہونا ایسا ہے کہ اسلام کی صداقت قرآن کریم کی صداقت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور خدا تعالیٰ کی ہستی اسی سے ثابت ہو جاتی ہے۔پس وہ امر جس کے ثبوت پر سارے امور بچے ثابت ہو جاتے ہیں۔اس کا بیان کرنا مقدم ہے یا کسی اور کا۔تو یہ مضمون نہایت ضروری تھا۔اس لئے میں نے اس کو اختیار کیا تا کہ سب امور صادق اور سچے ثابت ہو جائیں۔چونکہ لوگوں نے کہہ دیا تھا کہ اسلام پرانے واقعات اور قصے کہانیاں ہیں۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آ کر ثابت کر دیا ہے اور مشاہدہ کرا دیا ہے کہ وہ قصے کہانیاں نہ تھے بلکہ صحیح واقعات تھے۔پس آپ کی صداقت ثابت کرنے سے سب باتوں کی صداقت ثابت ہو جاتی ہے۔“ ( الفضل ۲۲/ ۱۹ جولائی ۱۹۱۹ ء ص ۱۴) حضرت حافظ صاحب نہ صرف اردو زبان میں ہی تقریر کرنے کی مہارت تامہ رکھتے تھے بلکہ عربی میں بھی آپ ایسے ہی زور اور روانی کے ساتھ تقریر فرما سکتے تھے۔چنانچہ اپنی زندگی میں آپ نے کئی گھنٹوں تک لمبی تقاریر عربی زبان میں کیں۔پنجابی میں بھی آپ نے بعض تقاریر کیں۔