حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ

by Other Authors

Page 17 of 69

حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 17

32 31 مسلمانان پٹھان کوٹ نے شہر میں جناب حافظ صاحب کا جلوس نکالا۔اور کئی تقریر میں کرائیں۔جن کے سننے کے لئے دور دور سے مسلمان بکثرت آئے۔اور اس حامی دین اسلام کے بیان کردہ مواعظ سے مستفیض ہوئے نوجوانوں نے ان جلسوں کے انتظام میں نہایت جوش سے حصہ لیا۔(ملاحظہ ہو الفضل ۲۹ ر ا پریل ۱۹۲۷ ء ص ۱) جن علماء سے آپ نے اپنی زندگی میں مناظرے کئے ان میں سے مسلمانوں سے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی ، مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری اور مولوی ابراہیم صاحب سیالکوٹی اور آریوں میں سے پنڈت شانتی سروپ، پنڈت پورنانند پنڈت پریم ناتھ کے علاوہ مشہور آر یہ مناظر پنڈت دھرم بھکشو اور پنڈت رام چند دہلوی قابل ذکر ہیں۔فروری ۱۹۲۳ء میں جلال پور جٹاں میں آپ نے ایک سنی، شیعہ مباحثہ میں اہل سنت و الجماعت کی طرف سے مسلمانان شہر کی دعوت پر ایک کامیاب مباحثہ کیا۔اپنی افادیت کے پیش نظر منتظمین کی طرف سے کتابی شکل میں شائع کیا گیا۔سید نا حضرت طلیقہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مباحثوں کی وجہ سے جماعت میں اتنے مقبول ہوئے کہ مجھے یاد ہے اس وقت ہمیشہ جماعتیں یہ لکھا کرتی تھیں کہ اگر حافظ روشن علی صاحب اور میر محمد اسحاق صاحب نہ آئے تو ہمارا کام نہیں چلے گا۔( الفضل ۱۹ نومبر ۱۹۴۰، ص۴ ) تصوف : جیسا کہ ابتدائے مضمون میں بیان کیا گیا ہے۔حضرت حافظ صاحب صوفیاء کے ایک مشہور خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔آپ کی پیدائش اور تربیت خاص تصوف کی فضا میں ہوئی۔آپ نے نہ صرف اپنی زندگی میں تصوف کا نہایت غائز نظر سے مطالعہ کیا۔بلکہ آپ میدان تصوف کے شاہ سوار تھے۔انگلینڈ کے سفر میں آپ نے ویمبلے کا نفرنس میں تصوف کے موضوع پر ایک عظیم الشان تقریر فرمائی ہے اس تقریر میں آپ نے اپنا تعارف ان الفاظ میں کرایا ہے۔راقم الحروف کا تعلق قادری نوشاہی سلسلہ کے ساتھ ہے۔اس سلسلہ کے بانی محمد حاجی تھے۔جو گیارہویں صدی ہجری میں گزرے ہیں۔بوجہ علم و تقویٰ و پرہیز گاری کے ان کی بڑی مقبولیت ہوئی۔حتی کہ ہندوستان کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جو ان کے مریدین سے خالی ہو۔ان کی وفات کے بعد اس سلسلہ کی خلافت گیارہ پشتوں سے ہوتی ہوئی اس خاکسار کو ملی۔اور یہ خاکسار بطور ورثہ کے اس کا حامل ہے۔میری پیدائش اور تعلیم و تربیت خاص تصوف کی فضا میں ہوئی ہے۔اور میرے خاندان کے دوست لوگ عموماً علمی مذاق اور مزاج کے تھے جن کا اس زمانہ کے لوگوں پر بہت بڑا اثر تھا۔-