حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ

by Other Authors

Page 11 of 69

حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 11

20 19 حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب نیر فرماتے ہیں: (میری) ہر بڑی تقریر کے مضمون کے اشارات کا بیشتر حصہ حضرت حافظ صاحب مرحوم لکھاتے تھے اور میں نہایت اطمینان سے زیادہ مطالعہ کئے بغیر تقریر سے پہلے مرحوم کے پاس جاتا اور کہتا کہ آج میں Moving Encyclopaedea of islam ( متحرک دائرۃ المعارف اسلام) کے مطالعہ کے لئے آیا ہوں اور بفضلہ تعالیٰ اس سے بھی کم وقت صرف کر کے جو برٹش میوزیم لائبریری لندن میں محض کتاب لینے کی اجازت حاصل کرنے میں خرچ ہوتا تھا علم کے زندہ خزانہ سے ضرورت کے مطابق دولت معلومات لے کر شاداں و فرحاں واپس ہوتا تھا۔“ الفضل ۱۲؍ جولائی ۱۹۲۹ء ص ۸) آپ نہ صرف قرآن کریم کے حافظ تھے بلکہ آپ کلام مجید کا ترجمہ تحت اللفظ بھی بغیر متن پڑھے کے اسی روانی کے ساتھ کر سکتے تھے گویا آپ قرآن کریم کے ترجمہ کے بھی حافظ تھے۔لندن میں دوماہ کے قیام میں آپ نے اکثر فقرات انگریزی سیکھ لئے تھے اور انگریزی خوانوں کے مذاق کے مطابق ان سے گفتگو نہایت عمدگی سے فرماتے تھے۔گفتگو میں جو لفظ استعمال کرتے وہ ٹھیک طور پر کرتے اور انگریزی خوانوں کا مضحکہ نہ بنتے - انگلستان میں آپ انگریزی کے چند الفاظ اور ہاتھ کے دو تین اشاروں سے بعض انگریزوں سے مذہبی گفتگو فرما لیا کرتے تھے۔آپ کی ذہانت کا ذکر کرتے ہوئے سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: انگلستان جاتے ہوئے ہم عدن میں اترے وہاں میں نے ایک عرب دکاندار سے عربی میں کھجوروں کا بھاؤ دریافت کیا۔اس نے جو جواب دیا میں اسے سمجھ نہ سکا۔میں نے دوبارہ یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ میری بات سمجھا نہیں پھر اس سے وہی سوال کیا۔اس نے پھر مجھے وہی جواب دیا میں پھر اس کی بات نہ سمجھ سکا۔اسی طرح دو چار دفعہ ہم میں سوال یہ جواب ہوا۔حافظ روشن علی صاحب مرحوم میرے پاس ہی کھڑے تھے وہ اس سوال و جواب کو سن کے بے اختیار ہنسنے لگے۔میں نے حافظ صاحب سے پوچھا کہ آپ کیوں ہنس رہے ہیں تو انہوں نے کہ آپ عربی بول رہے ہیں اور وہ سمجھتا ہے کہ آپ پنجابی بول رہے ہیں اور صرف اندازہ لگا کر جواب اردو میں دے رہا ہے۔لیکن آپ اس کے لہجہ کی وجہ سے سمجھ رہے ہیں کہ وہ عربی بول رہا ہے لیکن ایسی خراب زبان بول رہا یہ کہ آپ اسے سمجھ نہیں سکتے حالانکہ وہ عربی نہیں وہ اردو میں جواب دے رہا ہے۔“ الفضل ۲۸ مارچ ۱۹۴۶ء ص ۶) آپ نہایت حاضر جواب تھے کوئی شخص بھی آپ کی مجلس میں رنجیدہ نہیں رہ سکتا تھا۔مجلس میں بیٹھے ہوئے لوگ چاہے کسی مذاق کے ہوں حضرت