حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ

by Other Authors

Page 10 of 69

حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 10

18 17 بہت ہی ادب کرنے اور زیادہ خوش الحان ہونے کی وجہ سے میں ان کو ہی طلباء کا امام بنایا کرتا تھا۔طلباء بھی ان کا ادب کرتے اور ان کی تعظیم کرتے تھے۔“ ذہانت اور حافظ الفضل ۶ راگست ۱۹۲۹ء ص ۷ ) حضرت حافظ صاحب نہایت ذہین تھے ذہن نہایت صافی تھا۔آپ تلاوت کرتے وقت پچھلی آیات بتا سکتے تھے۔عام حافظ ایسا نہیں کر سکتے۔اگر ایک لفظ بھی رک جاتے تو وہ نئے سے پڑھنا شروع کر دیتے ہیں۔مگر آپ میں یہ کمال پایا جاتا تھا کہ آپ الگ الگ آیات بھی بتا سکتے تھے اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کلام الہی آپ کی ذہنی آنکھوں کے سامنے کھلا پڑا ہے۔پھر ایک بڑا کمال آپ میں یہ پایا جاتا تھا کہ کسی مضمون کے متعلق دریافت کرنے پر آپ فوراً قرآن کریم کی متعدد آیات بتا دیا کرتے تھے۔گویا تمام قرآنی مضامین آپ کی ذہنی آنکھوں کے سامنے ہمیشہ موجود رہتے تھے اور ضرورت کے وقت آپ کو زیادہ سوچنے کی ضرورت نہ پڑتی تھی۔سید نا حضرت خليفة أسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے بھی آپ کے اس کمال کی تعریف کی ہے۔آپ فرماتے ہیں : حافظ صاحب میں یہ بڑا کمال تھا کہ انہیں جب بھی کوئی مضمون بتا دیا جاتا تھا وہ اس مضمون کی آیتیں قرآن کریم سے فوراً نکال دیتے۔اکثر تو پہلی دفعہ ہی صحیح آیت نکال دیا کرتے تھے اور اگر پہلی دفعہ صحیح آیت نہ بتا سکتے تو دوسری دفعہ ضرور صحیح آیات بتا دیتے تھے مگر ان کی وفات کے بعد مجھے اب تک کوئی ایسا آدمی نہیں ملا۔ان کی زندگی میں مجھے مضمون تیار کرنے کے متعلق کبھی گھبراہٹ نہیں ہوا کرتی تھی کیونکہ میں جانتا تھا تقریر کرنے سے گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ پہلے میں ان کو اپنے پاس بٹھالوں گا اور وہ آستیں نکال نکال کر مجھے بتاتے چلے جائیں گے۔“ ایک اور موقعہ پر فرمایا: الفضل ۲۶ ؍ جولائی ۱۹۴۴ء ص ۳) ایک دفعہ لاہور میں مجھے اچانک تقریر کرنی پڑی۔حافظ روشن علی صاحب مرحوم جو آیات کا حوالہ نکالنے میں بہت مہارت رکھتے تھے ان کو میں نے پیچھے بیٹھا لیا اور مضمون بیان کرنا شروع کر دیا جب ضرورت ہوتی ان سے حوالہ دریافت کر لیتا۔“ 66 ( الفضل۔ار ستمبر ۱۹۳۸ء ص ۷ ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی ایک موقعہ پر حضرت حافظ صاحب سے دریافت فرمایا کہ حافظ صاحب وہ کیا آیت ہے کہ جب خدا تعالیٰ کی آیت سے ٹھٹھا ہو تو اس مجلس میں نہ بیٹھو۔اس پر آپ نے حتی یخوضو افی حديث وغیرہ والی آیت پڑھ کر سنائی۔(سیرت المہدی حصہ اول ص ۲۲۰