حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 12
22 21 حافظ صاحب ان پر کبھی بار گراں محسوس نہیں ہوتے تھے۔حضرت میر محمد اسحاق صاحب فرماتے ہیں کہ نہیں دیکھا۔“ میں نے آپ سا ذہین حافظ اور قادرالکلام کوئی الفضل ۲۸ جون ۱۹۲۹ ء ص ۷ ) آپ کا حافظہ نہایت بے نظیر تھا۔صفحات کے صفحات ایک دفعہ سن کر پھر دوبارہ سنا سکتے تھے۔بلا مبالغہ ہزاروں اشعار عربی آپ کو یاد تھے۔نہ صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اکثر قصائد ہی آپ کو یاد تھے بلکہ آپ کی بعض عربی کتب بھی آپ کو یاد تھیں۔سنا ہے کہ ۱۹۲۴ء میں یورپ کو جاتے ہوئے جب حضرت خلیفہ امسیح الثانی رضی اللہ عنہ دمشق میں قیام فرما ہوئے تو وہاں کسی تبلیغی غرض سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک عربی میں لکھی ہوئی کتاب کی ضرورت پڑی حضور نے حضرت حافظ صاحب سے اس کتاب کے ساتھ نہ ہونے کا افسوس کیا تو حضرت حافظ صاحب نے وہ کتاب زبانی سنانی شروع کر دی۔محترم ڈاکٹر میجر شاہ نو انر صاحب فرماتے ہیں کہ حضرت حافظ صاحب کو کئی الفاظ انگریزی حضرت خلیفہ امسیح الاول کے اکثر نسخہ جات، انگریزی ادویہ کے نام، ان کی خوراک وغیرہ صحیح تلفظ اور مقدار میں یاد تھیں۔حالانکہ آپ انگریزی نہیں جانتے تھے۔(ملاحظہ ہو الفضل ۴ اکتوبر ۱۹۲۹ء) محترم میاں عطاء اللہ صاحب مرحوم سابق امیر جماعت احمدیہ راولپنڈی فرماتے ہیں کہ انہوں نے خود آپ سے سنا فرماتے تھے کہ۔ایک دفعہ مجھ سے کسی نے پوچھا کہ حافظ صاحب! کیا آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی 66 کتاب اعجاز امسیح ، پڑھی ہے۔میں نے کہا کتاب کھولو۔اس نے کھولی اور میں نے اسے پینتیس صفحے زبانی سنا یئے۔( الفرقان ربوه بابت دسمبر ۱۹۶۰ء) جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے حضرت حافظ صاحب کی نظر بچپن میں ہی خراب ہو چکی تھی اور آپ کی صرف ایک آنکھ میں ہی کچھ بینا ئی تھی۔آپ نہ لکھ سکتے تھے اور نہ پڑھ سکتے تھے اس لئے آپ نے تمام علوم محض سن کر تحصیل کئے اور ہر علم کے متعلق حوالوں کا ایک وسیع ذخیرہ ہر وقت آپ کے حافظہ میں موجود رہتا تھا اور بقول حضرت مولانا عبد الرحیم نیر آپ چلتا پھرتا انسائکلو پیڈیا آف اسلام تھے۔تجر علمی : آپ اپنے زمانہ میں سلسلہ احمدیہ کے سب سے بڑے عالم تھے۔قرآن و حدیچ کے علاوہ آپ نے ہر ایک اسلامی علم میں تجر حاصل کیا تھا۔عیسائیت یہودیت اور آریہ مت وغیرہ مذاہب سے متعلق آپ کو نہایت اعلیٰ درجہ کی واقفیت حاصل تھی۔کسی مذاہب وملت کا آدمی ہو اس سے آپ نہایت عمدگی سے گفتگو فرما سکتے تھے۔آپ کی گفتگو نہایت مدلل اور استدلال نهایت وزن دار ہوتا۔آپ جو مضمون لکھواتے نہایت مفید معلومات سے پر ہوتا تھا۔حضرت میر محمد اسحاق صاحب تحریر فرماتے ہیں: آپ مذہبی میدان میں غیر مبائع ، غیر احمدی، آریہ ، سکھ، عیسائی اور سناتنی غرض ہر مذہب کے لوگوں سے