حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ

by Other Authors

Page 59 of 69

حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 59

116 115 ہم ان کی شفقت بھری ہدایات اور نصائح سے محروم ہیں اور اس لئے دلی تڑپ سے یہ دعا ہمارے سینوں سے نکلتی ہے کہ اے دو جہاں کے مالک حافظ صاحب کو اپنی جوار رحمت میں جگہ دے اور انہیں بے انتہا انعامات اخروی سے متمتع فرما۔ان کے پسماندگان کو صبر جمیل عطا کر اور ہم سب کے اس نقصان کی تلافی فرما۔آمین یا رب العالمین۔الفضل ۲۶ ؍ جولائی ۱۹۲۹ء ص۲) غیروں کے تاثرات : آپ کی وفات کے صدمہ کا اپنے تو اپنے غیروں بلکہ دشمنوں نے بھی احساس کیا اور اپنے جذبات ہمدردی کا اظہار کیا۔محترم سید کشفی شاہ صاحب نظامی آف رنگون نے لکھا کہ : علامہ حافظ روشن علی صاحب کی وفات حسرت آیات کی خبر سن کر مجھے سخت صدمہ ہوا ہے۔انا للہ وانا اليه راجعون - جناب حافظ صاحب مرحوم جماعت احمدیہ کے جید عالم اور بے نظیر جرنیل تھے ان کے انتقال سے جو جانکاہ صدمہ ان کے لواحقین کو پہنچا ہے اس سے مجھے پوری دلی ہمدردی ہے۔خدا تعالیٰ انہیں صبر کی توفیق بخشے اور صبر کا اجر عظیم عطا فرمائے۔“ ( بحوالہ الفضل ۲ اگست ۱۹۲۹ ، ص ۲) اخبار اہل حدیث ۵/ جولائی ۱۹۲۹ء لکھتا ہے کہ۔حافظ روشن علی قادیانی جماعت میں ایک قابل آدمی تھے۔قطع نظر اختلاف رائے کے ہم کہتے ہیں کہ موصوف خوش قرآت خوش گو تھے۔مناظرے میں متین اور غیر دل آزار تھے۔مرزا صاحب کے راسخ مرید تھے۔ہمیں ان کی وفات میں ان کے متعلقین سے ہمدردی ہے۔“ ( بحواله الفضل ۹ رمئی ۱۹۳۰ء) معاصر پیغام صلح لاہور نے اپنے ۹ر جولائی ۱۹۲۹ء کے الیشوع میں لکھا کہ : اختلاف عقائد اور چیز ہے۔انسانی ہمدردی کا تقاضا ہے کہ اختلاف عقائد کے ہوتے ہوئے بھی دوسرے کے دکھ درد اور رنج و راحت میں اس کے شریک حال ہو۔حافظ روشن علی صاحب ایک متشد د محمودی تھے۔محمودیت کی حمایت میں انہوں نے ہمیشہ غالیانہ سپرٹ کا اظہار کیا۔تا ہم ان میں بعض خوبیاں بھی تھیں۔جن کی وجہ سے ان کی موت باعث افسوس ہے۔حافظ صاحب حضرت مولانا مولوی نور الدین صاحب مرحوم کے شاگردوں میں سے تھے۔نہایت ذہین ، خوش بیان ، خوش الحان اور عالم آدمی تھے۔نہ صرف علوم اسلامیہ پر کافی عبور تھا۔بلکہ غیر مذاہب سے بھی خاصی واقفیت رکھتے تھے اور آریہ سماج کے ساتھ کئی