حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ

by Other Authors

Page 58 of 69

حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 58

114 113 پڑھائیں اور اپنے اخلاق فاضلہ اور اسوہ حسنہ سے ہماری تربیت فرمائی تھی اور قدم قدم پر ہماری رہنمائی کی تھی اس کی نظیر ملنی مشکل ہے۔آپ کی تمام خوبیوں اور علمی تجر اور بے حد حسانات کو یا د کر کے ہماری طبائع میں جس قدر بھی رنج و غم اور کرب پیدا ہو تھوڑا ہے اور اس کا جس قدر بھی اظہار کیا جائے وہ لائق ومناسب ہے۔کیوں نہ ہو۔لئن حسنت فيه المراثى و ذكريا لقد حسنت من قبل فيه المدائع لیکن حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ہم یہی کہتے ہیں۔ان العين تدمع والقلب يحزن ولانقول الاما يرضی به ربنا و انا بفراقك لمحزونون- ان الله ما اخذ و له ما اعطی و کل عنده باجل مسمی – ہماری دلی دعا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے خاص فضل و کرم سے حضرت حافظ صاحب کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور اعلی علیین میں داخل کرے۔ان کے درجات بلند فرمائے۔ہمیں ان کی پسندیدہ و جاری کردہ باتوں پر عمل درآمد کرنے کی توفیق بخشے تا کہ ان کی روح مبارک کو خوشی پہنچے۔آمین۔( الفضل ۵/ جولائی ۱۹۲۹ء ص ۸) حضرت حافظ صاحب نے اپنی زندگی میں جماعت کی عورتوں کی تربیت کی طرف بھی خاص توجہ فرمائی تھی۔اس لئے آپ کی وفات کی وجہ سے جماعت کے طبقہ نسواں نے بھی عظیم صدمہ محسوس کیا۔لجنہ اماء اللہ قادیان نے آپ کی وفات پر مندرجہ ذیل ریزولیوشن پاس کیا۔ہم ممبرات لجنہ اماءاللہ نہایت رنج و غم سے اس امر کا اظہار کرتی ہیں کہ حضرت حافظ روشن علی صاحب مرحوم کی وفات حسرت آیات سے ہمارے قلوب کو سخت صدمہ پہنچا ہے- انا لله و انا اليه راجعون - بے شک بظاہر یہ ایک بے وقت موت معلوم ہوتی ہے۔لیکن اپنے کاموں کو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔حافظ صاحب کی خوبیاں اظہر من الشمس ہیں آپ کا عالم بے مثال اور عامل بے نظیر ہونا کسی سے پوشیدہ نہیں۔آپ کا رمضان شریف میں درس دینا مردوں کے علاوہ عورتوں کے لئے بھی ایک عجیب روحانی غذا تھی۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی دعا اور خواہش جو درس قرآن کے متعلق ہے اللہ تعالیٰ اسے ضائع نہیں کرے گا لیکن بظاہر ایسا عالی حوصلہ جوانمرد پیدا ہونا ناممکن سے معلوم ہوتا ہے۔لجنہ اماءاللہ کے ساتھ بھی آپ کا مشفقانہ تعلق تھا۔آپ بطور ایک والد کے ہر وقت ہماری تربیت کے لئے تیار رہتے۔ہم جب چاہتیں لیکچر کے لئے آپ کو بلا تیں۔انکار تو کجا آپ کی پیشانی پر بل بھی نہ آتا افسوس ہے کہ آج