حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 60
118 117 ایک مناظرے انہوں نے کئے۔“ یادگار قائم رکھنے کی تحریکیں : ( بحواله الفضل ۹ رمئی ۱۹۳۰ ، ص ۹) حضرت حافظ صاحب کی وفات کے بعد آپ کی یادگار قائم کرنے کے لئے متعد دتحریکات کی گئیں۔آپ کے شاگردوں نے آپ کی یادگار کے طور پر ایک یتیم خانہ قائم کرنے کی تجویز پاس کی اور اس کے بعد اس کے لئے چندہ کی اپیل بھی کی گئی۔رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان کے مدیر محترم حضرت قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل نے لکھا کہ : حضرت علامہ حافظ صاحب کی یادگار قائم کرنے کا سوال در پیش ہے خواہ وہ اس صورت میں ہو کہ آپ کا ایک مکمل درس القرآن جلد سے جلد شائع کر دیا جائے۔مولانا اللہ دتہ صاحب جالندھری اس کو مرتب فرما سکتے ہیں۔دوم - ایک سہ ماہی رسالہ شائع ہوا کرے۔جو تحقیقات علمی کا مخزن ہو۔اس کا ہر مضمون ایک خاص شان رکھتا ہو جس میں مختلف علماء و فضلاء اپنے مطالعہ اور ریسرچ کا نچوڑ پیش کیا کریں۔اس کے متعلق بشرط ضرورت و تحریک مفصل پھر لکھا جائے گا۔“ ریویو آف ریلیجنز جولائی ۱۹۲۹ء ، ٹائٹل پیچ ص۲) لیکن افسوس کہ اس قسم کی کسی تجویز نے کوئی عملی صورت اختیار نہ کی۔محرکین خود دوسرے کاموں میں مصروف ہو گئے۔اور اس طرف توجہ نہ دے سکے۔بہر حال نہ کوئی رسالہ نکلا نہ ہی یتیم خانہ قائم ہوا۔ہاں میرے نزدیک آپ کی بہترین یادگار سلسلہ کا موجود تبلیغی نظام ہے آپ تبلیغ کے عاشق تھے۔اور اس میں اپنا ہر داؤ لگائے بیٹھے تھے۔آپ کے بعد نہ صرف آپ کے تیار کردہ مبلغ اس وقت تک تبلیغی میدان میں مصروف جہاد رہے۔بلکہ آگے ان کے شاگردوں اور پھر ان کے شاگردوں کا ایک ایسا سلسلہ قائم ہو گیا ہے کہ جب تک جماعت احمد یہ باقی ہے یہ قائم رہے گا۔اور صدقہ جاریہ کے طور پر اس کا ثواب حضرت حافظ صاحب کو پہنچتا رہے گا۔اشعار میں تاریخ وفات : بعض شعرائے کرام نے آپ کی تاریخ وفات بھی نکالی ہے۔چناچہ مکرم سید حسین صاحب ذوقی نے کہا۔گفتار ذوقی ایں تاریخ نیک صفاتش مرد سعید از دنیا در خلد بریں حافظ روشن علی رسید ١٩٢٩ء (الفضل ۱۲؍ جولائی ۱۹۲۹ء) مکرم مولوی غلام احمد صاحب اختر اوچ شریف نے کہا : قاری علامه حافظ مولوی روشن علی از اتباع احمد از مرات او روشن علی ابلغ البلغاء استظہار دیں کامل ولی آنکه اسرار خفیه بود بروے ے منجلی