حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ

by Other Authors

Page 14 of 69

حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 14

26 25 میں تقریری پروگرام میں ایک اور لیکچرار کا نام کاٹ کر آپ کا نام رکھا گیا۔اور پھر آپ نے تصوف کے متعلق جو ٹھوس معلومات اپنی تقریر میں پیش کیں مستشرقین یورپ بھی اس کی داد دیئے بغیر نہ رہ سکے۔ملک شام میں آپ کی تقریروں اور مباحثوں کی دھوم مچ گئی تھی۔حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب نیر نے آپ کے اس علمی پہلو کے متعلق لکھا ہے کہ : حافظ صاحب کی وفات سے نہ صرف جماعت احمدیہ کا نہ تلافی ہونے والا نقصان ہوا ہے اور خلافت ثانی کا مولا نا عبدالرحیم ثانی ہم سے جدا ہوا ہے۔بلکہ دنیائے اسلام میں چونکہ حافظ صاحب کی سی جامع صفات رکھنے والا دوسرا آدمی نہ موجود تھا اور نہ ہے۔اس لئے کل اسلامی دنیا کا نقصان ہوا ہے جس کا احساس متعصب ہندوستانی گونہ کریں۔مگر ممالک اسلامیہ کے جن علماء اور عوام نے حضرت مرحوم کو ان کے دوران سفر شام و مصر میں دیکھا تھا۔وہ اس کا احساس کئے بغیر نہ رہ سکتے۔“ خطابی قابلیت : الفضل ۱۲ ؍ جولائی ۱۹۲۹ء ص ۸ ) تقریر میں آپ احمدی جماعت میں بلا استثناء سب سے نمایاں حیثیت رکھتے تھے۔بلا مبالغہ آپ نے ہزاروں تقریریں کیں اور پھر ملک کے ہر حصہ میں دیہات میں بھی اور شہروں میں بھی کیں۔اور ہرفن کے ماہرین کے سامنے - کیں۔اور ہر بار آپ نے اپنی صفائی وشتگی بیان کی وجہ سے حاضرین کی توجہ کو پورے طور پر جذب کر لیا۔نیز آپ تكلموا الناس على قدر عقولهم کے مطابق ہر طبقہ کی شایان حال تقریر فرمایا کرتے تھے۔آپ اپنے اس کمال کی وجہ سے متعدد اسلامی انجمنوں کی دعوت پر ان کے جلسوں میں شامل ہوئے۔چنانچہ جون ۱۹۱۷ء پیر میلہ نوشاہیاں رنمل کی دعوت پر آپ نے حاضرین کے سامنے تقریر کی۔انجمن احمد یہ جموں نے مارچ ۱۹۲۴ء اور پھر جنوری ۱۹۲۶ء میں آپ کو خاص دعوت دے کر اپنے جلسہ میں تقریریں کروائیں۔ینگ مینز ایسوسی ایشن جموں نے آپ کو فروری ۱۹۲۴ء میں اپنے اجلاس سے خطاب کرنے کی دعوت دی۔علی گڑھ میں یونیورسٹی کی ایک تقریب پر آپ نے اسلامک ہسٹری اور اسلام اور دیگر مذاہب کے مقابلہ پر زبردست تقریر کی۔ستمبر ۱۹۲۴ء میں آپ نے جموں میں عالمگیر مذہب کے موضوع پر تقریر کی۔اس تقریر نے اس قدر مقبولیت حاصل کی کہ صدر جلسہ جناب عبد العزیز صاحب ایم اے، ایل ایل بی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ نے بے ساختہ فرمایا : - الفضل ۱/۵ کتوبر ۱۹۲۶ ، ص ۹) جموں میں آج تک کسی سٹیج پر کوئی ایسا قابل قدر لیکچرار پیش نہیں ہوا۔“ حضرو میں اکتوبر ۱۹۲۶ء میں آپ کے ایک لیکچر اسلام اور دیگر مذاہب میں شمولیت سے مخالفین نے بعض لوگوں کو منع کیا۔لیکن جو لوگ لیکچر سننے کے لئے نہ آئے۔انہوں نے اس کی شہرت سن کر منع کرنے والوں کا ناک