حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 13
24 23 ہیں کہ : گفتگو اور مباحثہ کر سکتے تھے اور یہ خوبی حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء کے سوا اور کسی میں میں نے نہیں دیکھی۔الفضل ۲۸ جون ۱۹۲۹ء ص ۷ ) سید نا حضرت امیر المومنین خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ” قاضی امیر حسین صاحب حافظ روشن علی صاحب اور مولوی محمد اسماعیل صاحب اپنے اپنے رنگ میں کامل تھے۔قاضی صاحب علم حدیث کے ماہر تھے۔حافظ صاحب قرآن کریم کی تفسیر کے اور مولوی صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کے“۔الفضل ۳۱ / مارچ ۱۹۴۴، ص۳) حضرت مولا نا عبد الرحیم صاحب نیز فر ماتے ہیں کہ حضرت خلیفہ المسیح اول کی ایک خاص یادگار دنیا میں نور قرآن سے فیض یافتہ حافظ القرآن حضرت مولا نا روشن علی ( مرحوم ) ہیں۔“ الفضل ۱۲؍ جولائی ۱۹۲۹ ء ص ۸ محترم پیر فیض احمد صاحب جو خاندانی رشتہ کے لحاظ سے حافظ روشن علی صاحب کے بھائی ہیں اور آج کل کیمل پور میں رہائش پذیر ہیں۔فرماتے ہیں رت خلیفہ اسیح الاول فرمایا کرتے تھے۔”حضرت میں نے اپنے تمام روحانی علوم میاں محمود احمد (خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کو دے دیئے ہیں۔اور تمام ظاہری علوم حافظ روشن علی صاحب کو دے دیئے ہیں۔“ خود حضرت حافظ صاحب کو بھی اپنے اس مقام کا احساس تھا۔چنانچہ مرض الموت میں جب کہ آپ کے شاگردوں نے آپ سے درخواست کی کہ بیماری کا لحاظ رکھتے ہوئے آپ کم گفتگو فرمایا کریں۔تاصحت پر مزید برا اثر نہ پڑے تو آپ نے فرمایا: زندگی کا کوئی پتہ نہیں۔جتنا کچھ ہو سکے۔ابھی میں تم کو بتا دوں تو اچھا ہے۔مجھے سب سے بڑا غم یہی ہے کہ میں ایسے وقت میں جا رہا ہوں کہ سلسلہ میں کوئی ایسا عالم نظر نہیں آتا جو تمہیں آگے چلائے مجھے خوف ہے کہ بعد میں یہ پڑھا ہوا بھی تمہیں بھول نہ جائے۔کجا یہ کہ تم ترقی کرو جب کبھی ایسی باتیں ہوتیں۔آپ ہمیشہ اس غم کا اظہار فرماتے۔“ روایت محترم مولوی غلام احمد صاحب فاضل بد و ماهوی مندرجہ الفضل ۶ / اگست ۲۹ ء ص ۸ ) آپ کے تجر علمی کا اثر نہ صرف ہندوستان والوں پر تھا۔بلکہ بیرونی ممالک کے علم دوست لوگ جن سے حضرت حافظ صاحب کی ملاقات ہوئی۔وہ آپ کی علمی فوقیت سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔انگلستان میں ویمبلے کا نفرنس