حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب ؓ

by Other Authors

Page 9 of 18

حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب ؓ — Page 9

14 13 باتوں کا ہونا بتا تا ہے کہ یہ ایک تقدیر مبرم تھی لیکن خدا تعالیٰ نے ہماری دعاؤں کو سن کر آپ کے حصہ میں ایک اور سعادت یہ بھی آئی کہ سید نا حضرت مصلح موعود نے اس حادثہ کو بجائے ہوائی جہاز کے ریل میں بدل دیا۔ہوائی جہاز میں ایسا حادثہ پیش قاتلانہ حملہ کے بعد علاج کی خاطر جب ماہ جولائی ، اگست اور ستمبر ۱۹۵۵ء میں دوسرا آ جائے تو اس سے بچنا مشکل ہو جاتا ہے لیکن یہی حادثہ اگر ریل میں پیش آجائے تو سفر یورپ اختیار فرمایا تو اس میں آپ کو بھی حضور کی مصاحبت کا شرف حاصل ہوا اور اس سے کسی انسان کا بچ جا ناممکن ہے اور پھر وہ ریل مشرق سے مغرب کو جارہی تھی۔زیادہ تر رہائش و دیگر انتظامات کرنے کی خدمت وسعادت آپ ہی کے حصہ میں آئی۔جب میں نے یہ واقعہ پڑھا تو میں نے محسوس کیا کہ میری وہ خواب پوری ہوگئی ہے۔اس کے علاوہ اس سفر کے دوران متعدد مواقع پر حضور کی ترجمانی کے فرائض بھی آپ میں نے میاں بشیر احمد صاحب سے اس کا ذکر کیا جن کو میں یہ خواب اسی وقت بتا چکا تھا نے ادا کئے۔دوران سفر حضرت چوہدری صاحب نے جس اخلاص و وفا اور جذبہ جب یہ آئی تھی۔انہوں نے بھی کہا کہ واقعہ میں وہ خواب پوری ہوئی ہے۔لیکن میں عشق و محبت کے ساتھ اپنے محبوب امام اور افراد قافلہ کی خدمت کی توفیق پائی آئیے نے اخبار میں یہ واقعہ پڑھ کر چوہدری صاحب کو یہ لکھنا پسند نہ کیا کہ میری رؤیاپوری اس کا کچھ ذکر حضرت سیدہ مہر آیا حرم سید نا حضرت مصلح موعود ( جو شریک سفر تھیں) ہوگئی ہے کیونکہ رویا میں انہوں نے پہلے اطلاع دی تھی اس لئے میں نے یہی پسند کیا کی زبانی سنتے ہیں۔آپ بیان فرماتی ہیں: کہ وہ اطلاع دیں تو میں لکھوں گا۔چنانچہ دوسرے ہی دن چوہدری صاحب کی تار آ گئی "حضرت فضل عمر کے سفر یورپ میں آپ تمام وقت حضور کے ساتھ ساتھ کہ آپ کی رؤیا پوری ہوگئی ہے اور خدا تعالیٰ نے مجھے اس حادثہ سے بچالیا ہے۔یہاں رہے۔حضور کا تمام کام اپنے ہاتھ سے کرتے۔آپ کا سامان خود اٹھاتے رہے کیونکہ رویا کا سوال نہیں کہ وہ پوری ہوگئی بلکہ یہ ایک تقدیر مبرم تھی جو دعاؤں سے بدل گئی۔وہاں ہمارے ہاں کی طرح سامان اٹھانے کے لئے قلی وغیرہ عام نہیں ہوتے۔اول تو رویا میں خدا تعالیٰ نے مجھے ہوائی جہاز دکھایا تھا لیکن وہ واقعہ اسی جہت میں اور اسی شکل وہ لوگ اس قدر سامان سفر میں ساتھ رکھتے نہیں۔یہاں سے روانگی سے قبل بھی میں ریل میں پورا ہوا۔معلوم ہوتا ہے کہ ایسا ہونا تقدیر مبرم تھا لیکن خدا تعالیٰ نے کہا چلو چوہدری صاحب بڑے اصرار سے بار بار یہی پیغام بھجواتے رہے۔سامان تھوڑالے ان کی بات بھی پوری ہو جائے اور اپنی بات بھی پوری ہو جائے واقعہ ہم ریل میں جائیں وہاں اس کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔مگر تھوڑا تھوڑا کر کے بھی سامان اچھا کرا دیتے ہیں اس سے ہماری بات بھی پوری ہو جائے گی اور ان کی دعا بھی قبول ہو خاصا ہو گیا۔لمصل 1) جائے گی۔پس یہ واقعہ ہمارے لئے زائد یقین اور ایمان کا موجب ہے۔“ دوران سفر جب و نفیس (اٹلی) پہنچے تو وہاں نہ کوئی تلی تھا نہ مزدور۔مصلح ۸ فروری ۱۹۵۴ بحوالہ ماہنامہ خالد حضرت چوہدری ظفر اللہ خاں نمبر دسمبر ۱۹۸۵ء جنوری ۱۹۸۶ صفه ۱۳ ۱۴) حضرت چوہدری صاحب نے تمام سامان اپنے کندھوں پر اٹھا اٹھا کر کا ر سے