حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب ؓ — Page 10
16 15 گنڈ ولے ((Gondola) وینیس شہر کی نہروں میں چلنے والی کشتیاں ) تک پہنچایا اور مسکراتے میں ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔ہوئے فرمایا: دیکھا میں نہ کہتا تھا کہ اس قدر سامان نہ لے جائیں۔خیر بیبیوں کو پتہ تھا قرآن کریم سے عشق بھی حضرت چوہدری صاحب کی حیات کا ایک زریں باب ظفر اللہ ساتھ ہے خود ہی سامان اُٹھاتا پھرے گا۔چوہدری صاحب نے تو مزاحاً یہ ہے۔آپ کو خدمت قرآن کا ایک نہایت اہم موقع اس طرح میسر آیا کہ حضرت مصلح بات کہی تھی مگر مجھے بہت احساس ہوا کہ ان پر یہ اتنا بوجھل کام آن پڑا ہے۔وہ تو اپنے موعود نے انگریزی خواں طبقہ تک علوم قرآن کو پہنچانے اور قرآنی معارف ان کی زبان حبیب حضرت فضل عمر کے عشق و محبت میں اپنی ذات سے بے نیاز ہو کر سب کام کر میں میسر کرنے کی تحریک فرمائی تو آپ نے قرآن کریم کا انگریزی ترجمہ کرنے کا ارادہ رہے تھے۔اس زمانہ میں کسی کو دو چار پیسے مل جائیں یا اعلیٰ تعلیم حاصل کر لے تو وہ کیا۔ایک طویل محنت شاقہ کے بعد اس کام کو ۱۹۷ ء میں مکمل کر لیا۔گو جماعتی تاریخ اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھنے لگتا ہے مگر چوہدری صاحب کو کمال سلیم فطرت ملی ہوئی تھی۔میں قرآن کریم کا انگریزی ترجمہ اس سے قبل بھی کیا جا چکا تھا لیکن حضرت چوہدری آپ کو دیکھ کر حیرت ہوتی تھی کہ اتنی بڑی شخصیت اور انکسار کا یہ عالم۔“ صاحب کے ترجمہ قرآن کی خوبی یہ ہے کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی اصلح موعود نے (رساله خالد حضرت چوہدری ظفر اللہ خاں نمبر دسمبر ۱۹۸۵ء جنوری ۱۹۸۶ء صفحه ۳۳٬۳۲) حضرت چوہدری صاحب کو ارشاد فرمایا تھا کہ قرآن کریم کے انگریزی ترجمہ کو تفسیر صغیر مارچ ۱۹۵۸ ء میں حضرت چوہدری صاحب کو حجاز مقدس کے بابرکت سفر کی کے ترجمہ کے اسلوب پر ڈھال دیا جائے۔چنانچہ حضرت چوہدری صاحب نے اسی توفیق ملی اور آپ نے عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ روضہ رسول پر اسلوب پر ترجمہ قرآن کو مکمل کیا اور یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اسکے ابتدائی حصہ پر نظر حاضری اور دعا کی سعادت بھی پائی۔اپنے اس سفر کے دوران آپ کی تعظیم المرتبت ثانی قمر الانبیاء صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے اور حضرت مولوی محمد دین شخصیت کے اعزاز میں سعودی فرمانروا جلالۃ الملک سلطان عبد العزیز ابن سعود نے نہ صاحب نے فرمائی تھی۔حضرت چوہدری صاحب کی یہ عظیم خدمت قرآن ایک صدقہ صرف آپ سے ملاقات کی بلکہ شاہی مہمان خانہ میں ٹھہرایا۔جاریہ ہے اور جب تک لوگ اس ترجمہ قرآن سے مستفید ہوتے رہیں گے حضرت مارچ ۱۹۶۷ء میں حضرت چوہدری صاحب کو حج بیت اللہ کی سعادت بھی ملی اور چوہدری صاحب کو اجر عظیم ملتا چلا جائیگا اور ان شاء اللہ العزیز یہ سلسلہ تا قیامت جاری اس دوران خانه خدا بیت اللہ کے طواف اور دیگر مناسک حج کی ادائیگی کے علاوہ رہے گا۔روضہ رسول پر حاضری اور دعا کی سعادت بھی میسر آئی۔اس سفر حج کے عشق و محبت فروری ۱۹۷۰ ء میں ہالینڈ کے شہر ہیگ (HAGUE) میں واقع بین الاقوامی عدالت سے لبریز حالات اور واقعات حضرت چوہدری صاحب کی خود نوشت تحدیث نعمت“ انصاف (International Court of Justice) کا آپ کو صدر یعنی چیف