حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب ؓ — Page 8
12 11 کو کھولے بغیر یہ محسوس کیا کہ اس میں کسی عظیم الشان حادثہ کی خبر ہے جو چوہدری چوہدری صاحب کو تیرنا آتا ہے؟ خدا کرے اس حادثہ کی خبر معلوم کر کے کسی حکومت صاحب کی موت کی شکل میں پیش آیا ہے یا کوئی اور بڑا حادثہ ہے۔میں نے درد نے ہوائی جہاز یا کشتیاں بچانے کے لئے بھیج دی ہوں تا کہ چوہدری صاحب اور صاحب سے کہا لفافہ کو جلدی کھولو اور اس میں سے کاغذ نکالو۔درد صاحب نے لفافہ دوسرے لوگ بچ جائیں۔“ کھولا۔اس میں بہت سے کاغذ نکلتے آتے تھے۔لیکن اصل بات جس کی خبر دی گئی تھی نظر نہیں آتی تھی آخر کا ر لفافہ میں صرف ایک دو کاغذرہ گئے لیکن اصل خبر کا پتہ نہ لگا۔حضور نے اس رویا کی یہی تعبیر فرمائی کہ کوئی حادثہ سخت مہلک چوہدری صاحب کو پیش آنے والا ہے اور خدا تعالیٰ میاں بشیر احمد صاحب نے کہا پتہ نہیں چوہدری صاحب کے دماغ کو کیا ہو گیا ہے وہ انہیں اس سے بچالے گا کیونکہ وہ خود اس حادثہ کے متعلق سبھی خبر دے سکتے ہیں جب ایک اہم خبر لکھتے ہیں لیکن اچھی طرح بیان نہیں کرتے۔میں نے کہا گھبراہٹ میں ایسا وہ محفوظ ہوں۔“ ہو جاتا ہے۔اس پر لفافہ میں جو دو کاغذ باقی رہ گئے تھے ان میں سے ایک کاغذ کو میں چوہدری صاحب اس وقت نیو یارک میں تھے۔حضور نے انہیں اس منذ رخواب نے باہر کھینچا تو ایک فہرست تھی لیکن اصل واقعہ کا اس سے پتہ نہیں لگتا تھا۔اس فہرست سے اطلاع دی اور خود بھی کثرت سے دعاؤں اور صدقات کا سلسلہ جاری رکھا۔یہاں میں ایک نام سے پہلے ملک لکھا تھا اور آخر میں محمد لکھا تھا۔درمیانی لفظ پڑھا نہیں جاتا تک کہ چوہدری صاحب خیریت سے کراچی پہنچ گئے۔وہاں سے پنجاب آئے تو یہ سفر تھا۔اس سے اتنا تو پتہ لگتا تھا کہ واقع میں کوئی اہم خبر ہے لیکن اصل واقعہ کا پتہ نہیں چلتا بھی بخیریت گزر گیا لیکن جب کراچی واپس گئے تو ریل گاڑی کو ٹھمپیر کے مقام پر ایک تھا۔پھر لفافہ میں سے ایک اور شفاف کا غذ نکلا جو tracing paper تھا۔میں اسے خوفناک حادثہ پیش آیا جس نے ملک بھر میں صف ماتم بچھا دی۔مگر حضرت چوہدری دیکھنے لگا اور میں نے کہا یہ خبر ہے جو چوہدری صاحب نے ہم تک پہنچانی چاہی ہے مگر صاحب حضور کی رؤیا کے مطابق خارق عادت طور پر محفوظ رہے۔بجائے کوئی واقعہ لکھنے کے اس کاغذ پر ایک لکیر کھینچی ہوئی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ حضور فرماتے ہیں۔جس جگہ پر یہ واقعہ ہوا چوہدری صاحب کے خط سے معلوم ایک ہوائی جہاز ہے جو مشرق سے مغرب کی طرف جا رہا ہے۔آگے جا کر وہ لکیر یکدم ہوتا ہے کہ اس سے دس دس میل دور تک کوئی پکی سٹرک نہیں ہے صرف ریل کی پٹڑی ار بیوی (آزادہ تر چھا) صورت میں نیچے آجاتی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ جہاز یکدم نیچے گزرتی ہے۔اس لئے اعداد کے لئے اس جگہ تک موٹر نہیں آسکتی تھی۔اس طرح وہ جگہ آگیا ہے۔اس جگہ معلوم ہوتا ہے کہ نیچے کچھ جزیرے ہیں مجھے نیچے کی طرف عملاً جزیرے کی مانند تھی۔میں سمجھتا ہوں کہ رویا میں ہوائی جہاز کا دکھا یا جانا اور واقعہ ریل سمند ر نظر آتا ہے۔اس میں ہلکی ہلکی لہریں ہیں۔میں خواب میں کہتا ہوں کہ نہ معلوم میں ہونا اور پھر یہ گاڑی بھی مشرق سے مغرب کو جارہی تھی۔اس طرح دوسری سب