حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب ؓ — Page 11
18 17 2فروری کو ختم ہوتی ہے۔اس میعاد کے ختم ہونے سے قبل اقوام متحدہ میں ان پانچ جوں کی نشستیں پر کرنے کے لئے انتخاب ہوتا ہے۔جب نئے جج اپنے فرائض 4 فروری جسٹس مقرر کیا گیا اور عہدہ کی مقررہ میعاد کے مطابق ۳ سال آپ نے یہ فرائض بخیر و وقت تک اس عدالت کے آٹھ صدر رہ چکے ہیں۔دولاطینی امریکن، ایک شمالی امریکن، خوبی سرانجام دیئے۔اس عہدہ پر آپ کا منتخب ہونا ایک خدائی بشارت کا ظہور اور کئی چار یورپین، ایک آسٹریلین ، میں پہلا ایشیائی صدر ہوں اور ایشیائی بھی وہ جو مغربی نشانات کا ظہور میں آنا تھا۔چنانچہ اس واقعہ کی تفصیل کے بارے میں حضرت تہذیب اور ثقافت کی اقدار سے بیزار ہے اور جس کی یہ بیزاری اس کے عمل سے ظاہر چوہدری صاحب فرماتے ہیں: ہے لیکن اگر اُس کی مشیت نے ایک ناکارہ ہی کا انتخاب چاہا تو ”عالمی عدالت کے پندرہ جوں میں سے پانچ کی نو سالہ میعاد ہر تیسرے سال نیست از فضل وعطائے اوبعید کور باشد هر که از انکار دید قادر است و خالق ورب مجید ہر چہ خواہد می کند بخرش که دید؟ اس کی قدرتوں کی انتہا نہیں۔اس انتخاب سے ۳۶ سال قبل میری والدہ صاحب سے سنبھال چکتے ہیں تو عدالت کا پہلا کام صدر کا انتخاب ہوتا ہے۔صدارت کے مرحومہ نے ایک مبشر خواب دیکھا تھا ، جو ان کی وفات کے ۳۲ سال بعد اس انتخاب عہدے کی میعاد تین سال ہے۔یہ انتخاب خفیہ رائے شماری کے ذریعے عمل میں آتا سے پورا ہوا۔فالحمد للہ۔جس رات انہوں نے خواب دیکھا اسی صبح کو مجھ سے بیان ہے۔۱۹۷۰ ء میں اس انتخاب کے لئے ۱۸ / فروری کا دن تجویز ہوا۔صدارت کے کیا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں اپنے سیالکوٹ کے مکان کے فلاں لئے دو اور جوں کے ساتھ میرا نام بھی تجویز ہوا تھا۔انتخاب کے لئے آٹھ آراء کی تائید کمرے میں ہوں اور اس کمرے کی کھڑکی کے باہر ایک نہایت دل لبھانے والا کتر ک نور ضروری ہے۔انتخاب کی کارروائی دو دن ہوتی رہی۔آخر کار مطلوبہ کثرت سے زائد آہستہ آہستہ کھڑکی کی ایک جانب سے دوسری جانب حرکت کر رہا ہے۔جب کھڑ کی آراء میرے حق میں پائی گئیں اور بفضل اللہ میں صدر منتخب ہوا۔فالحمد اللہ۔میں ایک کے عین وسط میں پہنچا تو ایک پر شوکت آواز آئی ” ہو گا چیف جسٹس ظفر اللہ خاں نصر اللہ ضعیف عاجز پر تقصیر انسان ہوں۔اپنے اندر کوئی خوبی نہیں دیکھتا۔میرے دوسرے خاں کا بیٹا۔اور خفیف سے وقفے کے بعد پھر اسی طرح یہ الفاظ دہرائے گئے ”چیف دونوں رفیق جن کے اسمائے گرامی انتخاب کی کارروائی میں سامنے آتے رہے کئی جسٹس ظفر اللہ خاں نصر اللہ خاں کا بیٹا۔والدہ صاحبہ بفضل اللہ صاحبہ رؤیا وکشوف اعتبار سے مجھ پر فوقیت رکھتے ہیں۔اللہ تبارک تعالی اپنی مصلحتوں کو خود ہی جانتا ہے تھیں اور ہم سب کئی بار دیکھ چکے تھے کہ اللہ تعالی محض اپنے فضل وکرم سے انہیں اس کوئی اور ان کا احاطہ نہیں کر سکتا۔وہ فضل کرنا چاہے تو کوئی روک نہیں بن سکتا اور اگر رنگ میں نوازتا ہے۔وہ خود بھی جانتی تھیں کہ رویا اور کشوف تعبیر طلب ہوتے ہیں اس کا فضل شامل حال نہ ہو تو کوئی کوشش کوئی تدبیر کوئی حیلہ کارگر نہیں ہو سکتا۔اس اور ان کی اصل حقیقت اپنے وقت پر ہی جا کر آشکار ہوتی ہے۔۱۹۴۷ء میں میں 66