حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب ؓ — Page 12
20 19 ہندوستان کی فیڈرل کورٹ کا سینئر حج تھا اور اگر تقسیم ملک کے بعد میں ہندوستان میں فائز ہونے پر میرا درجہ میرے پرانے رفقاء کے لحاظ سے پھر سب سے نیچے تھا۔اب جو رہنے کا فیصلہ کرتا تو غالب قیاس یہی تھا کہ آزادی کا اعلان ہونے پر سپریم کورٹ کا غور کرتا ہوں تو میرا عدالت کی صدارت پر منتخب ہونا ضرور ایک اچنبھا ہے اور اس چیف جسٹس ہوتا۔۳ جون ۱۹۴۷ء کو برطانوی وزیراعظم مسٹر ٹیلی نے تقسیم ملک کے بشارت کو پورا کرنے والی ہے جو انتخاب سے ۳۶ سال پہلے میری والدہ صاحبہ کو دی گئی طریق کار کا اعلان کیا اور اس پر میں نے فیڈرل کورٹ کی حجی سے استعفیٰ دے دیا جو تھی۔والدہ صاحبہ نے خواب میں جو الفاظ سنے ان میں بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت مرکوز ۱۰ جون سے عمل پذیر ہوا۔اسی سال دسمبر کے تیسرے ہفتے میں جب میں اقوام متحدہ تھی۔اول بطور تسلی اور تصدیق آواز پر شوکت تھی۔پھر وہی الفاظ دہرائے گئے۔اور میں پاکستانی وفد کی قیادت سے واپس لوٹا تو قائداعظم کی ہدایت کے ماتحت بھوپال الفاظ کی ابتداء ہی میں لفظ ” ہوگا ظاہر کرتا ہے کہ حالات خواہ موافق نظر آئیں یا نہ یہ جانے سے پہلے نوابزادہ لیاقت علی خاں صاحب کی خدمت میں لاہور حاضر ہوا۔ہمارا فیصلہ ہے اور ہو کر رہے گا۔پھر میرے نام کے ساتھ والد صاحب مرحوم کا نام انہوں نے جن امکانات کا ذکر فرمایا ان میں پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نصر اللہ خاں شامل ہونا ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بخشش اس کی کا عہدہ بھی تھا لیکن ساتھ ہی انہوں نے فرمایا قائد اعظم چاہتے ہیں کہ تم وزارت خارجہ نصرت کا نشان ہوگی انسانی کوشش کا اس میں دخل نہیں ہوگا۔فسبحان اللہ و بحمدہ ( تحدیث نعمت صفحه ۷۳۰ تا ۷۳۲) کا قلمدان سنبھالو۔پاکستان کی سپریم کورٹ کے پہلے چیف جسٹس میاں عبدالرشید صاحب مقرر ہوئے۔جب ان کی میعاد اختتام کے قریب پہنچی تو انہوں نے از راہ فروری ۱۹۷۳ء میں عالمی عدالت انصاف سے ریٹائرمنٹ کے بعد آپ نے نوازش پہلے ٹیلیفون پر اور پھر بالمشافہ مجھے رضا مند کرنے کی کوشش کی کہ میرا نام بطور اپنے تئیں خدمت دین کے لئے وقف کر دیا اور حسب ارشاد سید نا حضرت خلیفہ امسیح اپنے جانشین کے تجویز کریں لیکن میں بوجوہ رضامند نہ ہوا۔۱۹۶۳ء کے عدالتی الثالث ( بیت) فضل لندن کی ملحقہ عمارت میں رہائش پذیر رہے اور ۱۹۸۳ ء تک انتخابات میں جب مجھے دوبارہ عالمی عدالت کی رکنیت کے لئے منتخب کیا گیا اس وقت وہیں قیام پذیر رہے۔دوران قیام آپ نے احباب جماعت ہائے احمد یہ انگلستان کی عدالت کے اراکین میں سے کئی دوبارہ منتخب شدہ اور دوسہ بارہ منتخب شدہ تھے لیکن ان تربیت اور دعوت الی اللہ کی مساعی میں بہت راہ نمائی فرمائی اور تربیتی مساعی کے کے انتخاب بلا فصل ہوئے تھے۔ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ایک رکن اپنی میعاد ختم کر کے دوران آپ نے انگلستان اور بیرون انگلستان متعدد دورہ جات بھی فرمائے۔اس عدالت سے علیحدہ ہو چکا ہو اور وہ علیحدگی کے بعد وقفہ سے پھر منتخب کر لیا جائے۔یہ دوران وسط نومبر تا وسط مارچ پاکستان میں قیام فرماتے اور جلسہ سالانہ میں شرکت کے صورت اب تک صرف میرے متعلق ہی پیدا ہوئی ہے۔عدالت کی رکنیت پر دوبارہ علاوہ تصنیف اور دیگر علمی و جماعتی مصروفیات میں وقت گزرتا۔