حضرت چوہدری فتح محمد سیال صاحب ؓ — Page 5
7 6 تحمید الاذہان رکھا۔اس بارہ میں حضرت خلیفہ امسیح الثانی نے فرمایا ” میں نے تفخیذ الاذہان جاری کیا تو جن لوگوں نے ابتداء میں میری مدد کی ان میں چوہدری صاحب بھی شامل تھے۔“ (الفضل2،مارچ1960ء) ای طرح چوہدری فتح محمد صاحب سیال کو حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے ساتھ بہت سے سفروں میں ساتھ رہنے کی توفیق بھی ملی۔چنانچہ ان سفروں میں سفر لا ہور سفر قصور ،سفر گورداسپور ، اور سفر سندھ وغیرہ شامل ہیں۔20، فروری 1944ء کو ہوشیار پور کے اس مکان المعروف طویلہ کے سامنے جس میں 1886ء میں حضرت اقدس مسیح موعود نے چالیس دن چلہ کشی کی اور آپ کو مصلح موعود کی عظیم بشارت دی گئی ایک جلسہ منعقد کیا گیا تا اس نشان رحمت کے پورا ہونے کا اعلان کیا جائے۔حضرت چوہدری صاحب بھی اس جلسہ میں شامل تھے۔بلکہ ان چند احباب میں سے تھے جنہوں نے حضرت صاحب کی معیت میں اس بابرکت کمرہ میں جا کر دعا کرنے کی توفیق پائی۔حضرت خلیفۃ ابیع الاول کی زوجہ اول کے بطن سے حضور کی نواسی ہاجرہ بیگم صاحبہ حضرت چوہدری صاحب کے عقد میں آئیں۔1908ء میں جب خلافتِ اولیٰ کا انتخاب ہوا تو آپ نے بھی بیعت کی اور اس عہد کو خوب نبھایا۔آپ کا خلافت سے ایسا عشق و وفا کا تعلق تھا کہ بیعت خلافت ثانیہ کے موقع پر آپکا بیعت کا مخط آنے سے قبل ہی الفضل میں آپ کو خلافت سے وابستہ قرار دے دیا گیا۔یہ تعلق یکطرفہ نہ تھا۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی کو بھی آپ سے بہت پیار تھا۔1917 ء کا واقعہ ہے کہ آپ گروں کی وجہ سے بیمار تھے۔ایک رات اس قدر تکلیف تھی کہ حضرت میر محمد اسماعیل صاحب کو بلوایا گیا۔حضرت میر صاحب نے دوائی لگائی اور واپس جا کر حضرت خلیفہ اسیح الثانی سے ذکر فر مایا کہ فتح محمد کی دائیں آنکھ تقریبا ضائع ہو چکی ہے اور آنکھ کی پتیلی سے لے کر آنکھ کے آخر تک زخم ہے۔اس پر حضرت خلیفہ اسیح الثانی اور حضرت اماں جان نصرت جہاں بیگم صاحبہ کے 1924ء میں حضرت خلیفہ اسی انانی دور کایورپ پر تشریف لے گئے تو اس دلوں میں درد اور ترحم پیدا ہوا اور دونوں ہستیوں نے آپ کے لئے دعا کی۔رات کو وقت بھی آپ کو معیت کی سعادت نصیب ہوئی۔حضرت خلیفہ اسبیع الاول کے حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے رویا میں دیکھا کہ آپ حضور کے سامنے بیٹھے ہیں اور ساتھ تو آپ کا روحانی رشتہ کے ساتھ ساتھ جسمانی رشتہ بھی تھا۔وہ اس طرح کہ آپ کی دونوں آنکھیں صحیح سلامت ہیں۔چنانچہ اس بشارت الہی کے مطابق آپ