حضرت چوہدری فتح محمد سیال صاحب ؓ

by Other Authors

Page 4 of 12

حضرت چوہدری فتح محمد سیال صاحب ؓ — Page 4

5 4 حضرت فتح محمد سیال صاحب کی پیدائش جوڑا کلاں میں 1887ء میں ہوئی۔1899ء میں جب حضرت نظام الدین صاحب قادیان تشریف لائے تو آپ کے صاحبزادہ حضرت فتح محمد سیال صاحب بھی ساتھ تھے اور اسی وقت مسیح پاک کی بیعت کی سعادت حاصل کی۔حضرت چوہدی فتح محمد سیال صاحب فرماتے ہیں کہ جب میں قادیان آیا ان دنوں غالبًا معروف احمدیوں کی تعداد ایک ہزار سے زائد نہ تھی۔اس وقت نہ کوئی تارگھر تھا اور نہ بجلی تھی ، نہ ریل تھی اور نہ آج سی رونق تھی۔مہمان خانہ میں اکثر مہمان مٹی کے پیالوں میں پانی پیتے اور وہی سائن کے لئے استعمال ہوتے تھے۔آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں جوڑا میں حاصل کی اور پھر 1900ء میں قادیان آگئے اور دسویں جماعت تک یہیں تعلیم حاصل کی۔1910ء میں آپ نے گورنمنٹ کالج لاہور سے بی۔اے کیا اور 1912ء میں علی گڑھ یونیورسٹی سے ایم۔اے کی ڈگری حاصل کی۔آپ ان لوگوں میں سے تھے جنہیں حضرت اقدس مسیح موعود کے ساتھ ایک خاص عقیدت اور قرب کا تعلق تھا۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود نے کسی سفر پر جانا تھا حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے خود آپ کا نام ساتھ جانے والوں میں لکھوایا اور نام لکھنے والوں سے کہا کہ شاید آپ لوگوں نے فتح محمد کا نام اس لئے چھوڑ دیا کہ وہ تو بہر حال پہنچ جائیگا۔آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بہت محبت تھی ایک دفعہ حضور یکہ پر گورداسپور گئے تو چوہدری فتح محمد صاحب اور عبدالرحمان صاحب دوڑتے ہوئے ساتھ گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی آپ سے بہت محبت رکھتے تھے چنانچہ جب رات کے وقت تار دینے کی ضرورت پڑتی تو حضور آپ ہی کو بٹالہ بھجوایا کرتے تھے۔زمانہ طالب علمی میں جب آپ لاہور میں مقیم تھے حضور علیہ السلام آپ کو اپنی تصانیف بذریعہ ڈاک مفت ارسال فرماتے اور اگر کبھی آپ کسی تعطیل کے دوران قادیان نہ پہنچتے تو حضور علیہ السلام دریافت فرماتے کہ فتح محمد کیوں نہیں آیا؟ اسی طرح جب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے رفقاء کا ایک وفد گورو ہر سہائے ضلع فیروز پور حضرت بابا گرونانک صاحب کے تبرکات دیکھنے کے لئے بھیجا تو آپ کو بھی اس میں شامل فرمایا اور اپنی کتاب چشمہ معرفت میں آپ کا تذکرہ اسی وفد میں فرمایا۔حضرت چوہدری صاحب کا یہ پیار اور محبت کا تعلق خاندان حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور خلفاء کرام کے ساتھ بھی اسی طرح مضبوط اور قائم رہا۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب (خلیفہ اسیح الثانی) سے آپ کی دوستی بچپن سے ہی تھی۔حضور نے 1900ء میں ایک مجلس قائم کی جس کا نام حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انجمن