سوانح حضرت علیؓ

by Other Authors

Page 10 of 14

سوانح حضرت علیؓ — Page 10

17 16 آئیں۔امام حسن و امام حسین نے ایک ایک نارنگی اٹھالی۔آپ نے دیکھا تو چھین کر لوگوں یہاں تک کہ ہاتھوں میں آبلے پڑ گئے۔غرض اس محنت اور مشقت کے بعد ایک مٹھی کھجور میں اجرت میں ملیں۔کھجور میں ساتھ لے کر بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ میں تقسیم کر دیں۔مال غنیمت تقسیم فرماتے تھے تو برابر حصے لگا کر نہایت احتیاط سے قرعہ ڈالتے تھے کہ اگر وسلم نے تمام کیفیت سن کر نہایت شوق کے ساتھ کھانے میں ساتھ دیا۔کچھ کمی بیشی رہ گئی ہو تو آپ اس سے بری ہو جائیں۔ایک دفعہ اصفہان سے مال آیا اس میں ایک روٹی بھی تھی۔حضرت علی نے تمام مال کے ساتھ اس روٹی کے بھی سات ٹکڑے کئے اور قرعہ ڈال کر تقسیم فرمایا۔(مسند احمد جلد 1 صفحہ 135) ایام خلافت میں بھی زہد کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹا اور آپ کی زندگی میں کوئی فرق نہ آیا۔موٹا لباس اور روکھا پھیکا کھانا ان کے لیے دنیا کی سب سے بڑی نعمت تھی۔ایک دفعہ ایک دفعہ بیت المال کا تمام اندوختہ تقسیم کر کے اس میں جھاڑو دیا اور دورکعت نماز ادا عبداللہ بن زریر نامی ایک صاحب شریک طعام تھے۔دستر خوان پر کھانا نہایت معمولی اور سادہ تھا۔انہوں نے کہا۔امیر المومنین! آپ کو پرندہ کے گوشت کا شوق نہیں ہے؟ فرمایا: فرمائی تا کہ بیت المال قیامت میں ان کی امانت و دیانت کا شاہد ر ہے۔زُہر ابن زریر ! خلیفہ وقت کو مسلمانوں کے مال میں سے دو پیالوں کا حق ہے ایک خود کھائے اور آپ کی ذات گرامی زہد فی الدنیا کا نمونہ تھی۔کوفہ تشریف لائے تو دار الامارت اپنے اہل کو کھلائے اور دوسرا خلق خدا کے سامنے پیش کرے۔کی بجائے ایک میدان میں فروکش ہوئے اور فرمایا کہ عمر بن الخطاب نے ہمیشہ ہی ان عالی شان محلات کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا۔مجھے بھی اس کی حاجت نہیں۔میدان (مسند احمد جلد 1 صفحہ 78) گھر میں کوئی خادمہ نہ تھی۔حضرت فاطمہ گھر کا سارا کام اپنے ہاتھوں سے انجام دیتی میرے لیے بس کافی ہے۔تھیں۔ایک مرتبہ شفیق باپ کے پاس اپنی مصیبت بیان کرنے گئیں۔حضرت سرور کائنات بچپن سے چھپیں چھبیس برس کی عمر تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔صلی اللہ علیہ وسلم موجود نہ تھے اس لیے واپس آکرسور ہیں۔تھوڑی دیر کے بعد حضرت عائشہ حضرت فاطمہ کے ساتھ شادی ہوئی تو علیحدہ مکان میں رہنے لگے۔اس نئی زندگی کے ساز و کی اطلاع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود تشریف لائے اور فرمایا: کیا تم کو ایک ایسی بات سامان کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ حضرت فاطمہ جوساز وسامان اپنے میکہ سے لائی تھیں نہ بتادوں جو ایک خادم سے کہیں زیادہ تمہارے لیے مفید ہو۔اس کے بعد آپ نے تسبیح و اس میں کسی چیز کا بھی خاطر خواہ اضافہ نہ ہو سکا۔چکی پیستے پیستے حضرت فاطمہ کے ہاتھوں میں تحمید کی تعلیم دی۔چھالے پڑ گئے تھے۔گھر میں اوڑھنے کی صرف ایک چادر تھی وہ بھی اس قدر مختصر کہ ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ سے اور حضرت فاطمہ سے فرمایا پاؤں چھپاتے تو سرنگا ہو جاتا اور سر چھپاتے تو پاؤں کھل جاتا۔بھوک کی شدت ہوتی تو پیٹ کہ تم دونوں ہر نماز کے بعد دس بار سبحان الله ، دس بار الحمدالله اور دس بار الله اکبر سے پتھر باندھ لیتے۔ایک دفعہ شدت بھوک میں گھر سے باہر نکلے کہ مزدوری کر کے کچھ کما پڑھ لیا کرو اور جب سونے لگو تو 33 بار سبحان الله 33 بار الحمدالله 34 بار الله اكبر لائیں۔مدینہ کے مضافات میں دیکھا کہ ایک ضعیفہ کچھ اینٹ پتھر جمع کر رہی ہے۔یہ خیال ہوا پڑھ لیا کرو۔حضرت علی فرماتے ہیں کہ جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو اس کی کہ شاید اپنا باغ سیراب کرنا چاہتی ہے، اس کے پاس پہنچ کر اجرت طے کی اور پانی سینچنے لگے۔تلقین کی میں نے اس کو چھوڑا نہیں۔پوچھا کہ صفین ( ایک جنگ کا نام ہے ) کی شب میں