سوانح حضرت علیؓ — Page 11
19 18 بھی نہیں ؟ فرمایا ! صفین کی شب میں بھی نہیں“ شجاعت شجاعت و بسالت حضرت علییؓ کا مخصوص وصف تھا جس میں آپ بے مثل تھے۔آپ تمام غزوات میں شریک ہوئے اور سب میں اپنی شجاعت کے حضرت علی گو د نیا وی دولت سے تہی دامن تھے لیکن دل غنی انفاق فی سبیل اللہ تھا۔کبھی کوئی سائل آپ کے در سے ناکام واپس نہیں ہوا۔جو ہر دکھائے۔اسلام میں سب سے پہلا غزوہ بدر پیش آیا۔اس وقت حضرت علی نو جوان تھے حتی کہ گھر میں موجود تھوڑا بہت سامان تک دے دیتے۔ایک دفعہ رات بھر باغ پہنچ کر لیکن اس عمر میں آپ نے تجربہ کار جنگجوؤں کے شانہ بشانہ جنگیں لڑیں۔تھوڑے سے جو مزدوری میں حاصل کئے صبح کے وقت گھر تشریف لائے تو کچھ کو پسوا کر نے سب اٹھا کر اس کو دے دیا۔انکساری غزوہ خندق میں بھی پیش پیش رہے۔چنانچہ عرب کے مشہور پہلوان عمرو بن عبدود نے حریرہ پکوانے کا انتظام کیا۔ابھی پک کر تیار ہی ہوا تھا کہ ایک مسکین نے صدا دی حضرت علی جب مبارزت طلب کی تو حضرت علی مرتضیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میدان میں (بخاری) جانے کی اجازت چاہی۔آپ نے ان کو اپنی تلوار عنایت فرمائی۔خود اپنے دست مبارک سادگی اور انکساری حضرت علیؓ کی صفات میں سے ایک بہت اہم صفت ہے۔سے ان کے سر پر عمامہ باندھا اور دعا کی ، خداوندا! تو اس کے مقابلہ میں ان کا مددگار ہو۔اپنے ہاتھ سے محنت و مزدوری کرنے میں کوئی عار نہ تھا۔لوگ مسائل پوچھنے آتے اس اہتمام سے آپ ابن عبدود کے مقابلہ میں تشریف لے گئے اور اس کو زیر کر کے تکبیر کا نعرہ تو آپ کبھی جوتا نا نکتے کبھی اونٹ چراتے اور کبھی زمین کھودتے ہوئے پائے جاتے۔مارا جس سے مسلمانوں کو معلوم ہوا کہ انہوں نے اپنے حریف پر کامیابی حاصل کر لی ہے۔مزاج میں بے تکلفی اتنی تھی کہ فرش خاک پر بے تکلف سو جاتے۔ایک دفعہ آنحضرت غزوات میں غزوہ ہوا زن خاص اہمیت رکھتا ہے۔اس میں تمام قبائل عرب کی متحدہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ڈھونڈتے ہوئے مسجد میں تشریف لائے۔دیکھا کہ بے تکلفی کے طاقت مسلمانوں کے خلاف اُمڈ آئی تھی۔لیکن اس غزوہ میں بھی حضرت علی ہر موقع پر ممتاز ساتھ زمین پر سورہے ہیں۔چادر پیٹھ کے نیچے سے سرک گئی ہے اور جسم غبار آلود ہو رہا ہے۔رہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن اکا بر صحابہ کو جھنڈے عنایت فرمائے ، ان میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ سادگی نہایت پسند آئی۔خود دست مبارک سے ان کا بدن حضرت علی مرتضیٰ بھی شامل تھے۔آغاز جنگ میں جب کفار نے دفعہ تیروں کا مینہ برسانا صاف کر کے محبت آمیز لہجہ میں فرمایا۔تم یا ابا خراب شروع کیا تو مسلمانوں کے پاؤں اکھڑ گئے اور صرف چند ممتاز صحابہ کرام رسول اللہ صلی اللہ ( بخاری کتاب فضائل اصحاب النبی باب مناقب علی ) مٹی والے ! اب اٹھ بیٹھ۔زبان نبوی کی عطا کی ہوئی یہ کنیت حضرت علی کو اس قدر علیہ وسلم کے ساتھ ثابت قدم رہے۔ان میں ایک حضرت علی مرتضی بھی تھے۔عہد نبوت کے محبوب تھی کہ جب کوئی اس سے مخاطب کرتا تو خوشی سے ہونٹوں پر تقسم کی لہر دوڑ جاتی۔بعد خود ان کے زمانہ میں جو معر کے پیش آئے ان میں کبھی ان کے پائے ثبات میں لغزش ایام خلافت میں بھی سادگی قائم رہی۔عموماً چھوٹی آستین اور اونچے دامن کا کرتہ پہنتے نہیں آئی۔اور معمولی کپڑے کی تہہ بند باندھتے۔بازار میں گشت کرتے پھرتے اگر کوئی تعظیماً ساتھ ہو دشمنوں سے حسن سلوک حدیث میں آیا ہے کہ ” بہادر وہ نہیں ہے جو دشمن کو پچھاڑ دے بلکہ وہ ہے جو اپنے نفس کو زیر کرے“ لیتا تو منع فرماتے کہ اس میں ولی کے لیے فتنہ اور مومن کے لیے ذلت ہے۔( تاریخ طبری صفحہ 334) حضرت علی مرتضی اس میدان کے شہوار تھے۔ان کی زندگی کا اکثر حصہ مخالفین کی معرکہ