سوانح حضرت علیؓ — Page 9
15 14 شہادت منافقوں نے جب یہ دیکھا کہ حضرت علیؓ ان کی شرارتوں سے واقف ساتھ لطف و مدارت کی تاکید کی۔کسی نے عرض کی امیر المومنین! آپ کے بعد ہم لوگ امام حسن ہو گئے ہیں اور انہوں نے مسلمان باغیوں سے بھی جو ان کی چال میں کے ہاتھ پر بیعت کریں۔فرمایا: اس کے متعلق میں کچھ نہیں کہنا چاہتا۔تم لوگ خود اس کو طے آگئے تھے صلح کرلی ہے تو وہ اس بات سے ڈر گئے کہ اب سارے مسلمان ہماری چال سمجھ کرو۔اس کے بعد مختلف وصیتیں کیں۔قاتل کے متعلق فرمایا کہ معمولی طور پر قصاص لینا۔جائیں گے۔(طبری صفحه 2461) بحث و مباحثہ کے بعد بالا تفاق یہ رائے قرار پائی کہ جب تک تین آدمی علی ، معاویہ اور تلوار زہر میں بجھی ہوئی تھی اس لیے نہایت تیزی کے ساتھ اس کا اثر تمام جسم میں عمرو بن العاص صفحہ ہستی پر موجود ہیں ہمیں کامیابی نہیں ہو سکتی چنا نچہ تین آدمی ان تینوں کو سرایت کر گیا اور اسی روز یعنی 17 رمضان 40 ہجری کی رات کو یہ فضل و کمال اور رشد و شہید کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔عبدالرحمن بن عجم نے کہا میں علی کے قتل کا ذمہ لیتا ہوں۔ہدایت اور خلافت راشدہ کا ستارہ غروب ہو گیا حضرت امام حسنؓ نے خود اپنے ہاتھ سے اسی طرح نزال نے معاویہ اور عبد اللہ نے عمر و بن العاص کے قتل کا بیڑہ اُٹھایا اور تینوں اپنی تجہیز و تکفین کی۔نماز جنازہ میں چار تکبیروں کی بجائے پانچ تکبیر یں کہیں اور کوفہ کے قریب اپنی مہم پر روانہ ہو گئے۔کوفہ پہنچ کر ابن ملجم کے ارادہ کو قطام نامی ایک خارجی عورت نے اور ایک قبرستان میں سپردخاک کیا۔زیادہ مستحکم کر دیا اور اس مہم میں کامیاب ہونے کے بعد اس سے شادی کا وعدہ کیا اور حضرت علی کا خون اس کا مہر قرار دیا۔اخلاق و عادات اور ذاتی حالات (طبری جزء3 صفحہ 160) غرض رمضان 40 ہجری میں تینوں نے ایک ہی روز صبح کے وقت تینوں بزرگوں پر حملہ حضرت علی مرتضیٰ نے ایام طفولیت ہی سے سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن کیا۔حضرت معاویہ اور حضرت عمرو بن العاص اتفاقی طور پر بچ گئے۔حضرت معاویہ پر وار عاطفت میں تربیت پائی تھی اس لیے وہ قدرتاً محاسن اخلاق اور حسن تربیت کے نمونہ تھے۔صحیح نہ ہوا۔حضرت عمرو بن العاص اس دن امامت کے لیے نہیں آئے تھے ایک اور شخص ان آپ کی زبان کبھی کلمہ شرک و کفر سے آلودہ نہ ہوئی اور نہ آپ کی پیشانی غیر خدا کے آگے کا قائم مقام ہوا تھا ، وہ عمرو بن العاص کے دھو کہ میں مارا گیا۔حضرت علی مسجد میں تشریف جھکی۔جاہلیت کے ہر قسم کے گناہ سے مبرا اور پاک رہے۔شراب کے ذائقہ سے جو عرب کی لائے اور ابن ملجم کو جو مسجد میں آکر سورہا تھا جگایا۔جب آپ نے نماز شروع کی سجدہ میں گھٹی میں تھی کبھی بھی آپ کی زبان آشنا نہ ہوئی۔گئے تو اسی حالت میں بد بخت ابن ملجم نے تلوار کا نہایت کاری وار کیا سر پر زخم آیا اور ابن ملجم امانت و دیانت آپ ایک امین کے تربیت یافتہ تھے اس لیے ابتدا ہی سے اس خلق سے متصف ہو گئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (طبری صفحه 2458،2457) قریش کی امانتیں رہتی تھیں۔جب آپ نے ہجرت فرمائی تو ان امانتوں کی واپسی کی ذمہ کولوگوں نے گرفتار کر لیا۔حضرت علی اتنے سخت زخمی ہوئے تھے کہ زندگی کی کوئی امید نہ تھی اس لیے حضرت امام حسن داری حضرت علیؓ کے سپرد کی۔اپنے عہد خلافت میں آپ نے مسلمانوں کی عظیم امانتداری اور امام حسین کو بلا کر نصائح کیں اور محمد بن حنفیہ ( یہ حضرت علی کی دوسری اہلیہ سے تھے ) کے فرمائی۔اس کا اندازہ حضرت اُم کلثوم کے اس بیان سے ہوسکتا ہے کہ ایک دفعہ نارنگیاں