سوانح حضرت علیؓ — Page 8
13 12 حضرت علیؓ نے ان کے رفع کرنے کے لیے ان کو نہایت مخلصانہ مشورے دیے۔جب منافقین نے نہایت سختی کے ساتھ حضرت عثمان کے گھر کا محاصرہ کر لیا اور آخر میں یہاں تک آپ کے عہد خلافت میں کئی قابل ذکر کام ہوئے مثلاً : پہلے خلفاء کی طرح آپ بھی غریبوں اور ضرورت مندوں کی بہت مددکرتے تھے۔شدت اختیار کی کہ آب و دانہ سے بھی محروم کر دیا تو حضرت علی محاصرہ کرنے والوں کے 2۔شام کی سرحدوں پر فوجی چوکیاں قائم کیں۔پاس تشریف لے گئے اور فرمایا کہ تم لوگوں نے جس قسم کا محاصرہ قائم کیا وہ نہ صرف اسلام 3 بیت المال کی حفاظت کا بہتر انتظام کیا۔بلکہ انسانیت کے بھی خلاف ہے۔کفار بھی مسلمانوں کو قید کر لیتے تو آب و دانہ سے محروم نہیں 4۔کئی جگہوں پر فوجی چھاؤنیاں اور قلعے بنائے۔کرتے۔اس شخص نے تمہارا کیا نقصان کیا ہے جو ایسی سختی روا رکھتے ہو؟ محاصرین نے۔دریائے فرات پر ایک بڑا پل بنایا جود جسر فرات کے نام سے مشہور ہے۔حضرت علی کی سفارش کی کچھ پرواہ نہ کی اور محاصرہ میں سہولت پیدا کرنے سے قطعی انکار کر 6۔مختلف جگہوں پر کنوئیں، نہریں اور جانوروں کے لیے چراگاہیں بنوائیں۔دیا۔حضرت علی شخصہ میں واپس چلے گئے۔7۔آپ کے زمانہ میں دارالخلافہ مدینہ سے کوفہ منتقل ہوا۔( ابن اثیر جلد 3 صفحہ 129) کی نصیحت کرتے رہے۔تا ہم اپنے دونوں صاحبزادوں کو احتیاطاً حفاظت کے لیے بھیج دیا جنہوں نے نہایت۔آپ کے زمانے میں منافقوں نے شرارتوں کے ذریعہ مسلمانوں کو مسلمانوں سے لڑا دیا تندہی اور جانفشانی کے ساتھ مدافعت کی یہاں تک کہ اس کشمکش میں زخمی ہوئے لیکن تھا۔آپ مسلمانوں میں صلح صفائی کراتے رہے اور مسلمانوں کو آپس میں اتفاق سے رہنے کثیر التعداد مفسدین کا رو کنا آسان نہ تھا۔محاصرین دوسری طرف سے دیوار پھاند کر اندر گھس آئے اور خلیفہ وقت کو شہید کر ڈالا۔حضرت علی کو معلوم ہوا تو اس سانحہ جا نگاہ پر حد 9۔منافقوں اور دشمنوں کی سازش سے ایران میں کئی دفعہ بغاوت ہوئی جس میں بہت سے سادہ درجہ پریشان ہوئے اور جو لوگ حفاظت پر مامور تھے ان پر سخت ناراضگی ظاہر کی کہ تم لوگوں مسلمان بھی شامل ہوتے رہے۔آپ ہمیشہ حوصلہ سے کام لیتے رہے اور مسلمانوں کو سمجھا بجھا کی موجودگی میں یہ واقعہ کس طرح پیش آیا۔کر منافقوں کی شرارتوں سے آگاہ کرتے رہے۔ایرانی آپ کی نرمی سے اتنے متاثر ہوئے حضرت عثمان کی شہادت کے تین دن بعد تک مسند خلافت خالی خلافت حضرت علیؓ کہ کہنے لگے اس مسلمان خلیفہ نے نوشیرواں کی یاد دلا دی ہے۔رہی۔اس عرصہ میں لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منافقین نے حضرت عثمان کو شہید کر کے یہ سمجھا تھا کہ اب ہم مسلمانوں کو ایک دوسرے اس منصب کے قبول کرنے کے لیے سخت اصرار کیا۔انہوں نے پہلے اس بارگراں کے سے لڑا کر ان کی طاقت کمزور کر دیں گے اور آہستہ آہستہ اسلام کو ہی ختم کر دیں گے۔حضرت اُٹھانے سے انکار کر دیا لیکن آخر میں مہاجرین و انصار کے اصرار پر ذمہ داری سنبھالنے پر علی منافقوں کی یہ چال سمجھتے تھے اس لیے آپ نے لڑائی ختم کر کے اور مختلف گروہوں میں صلح تیار ہوئے گئے اور اس واقعہ کے تیسرے دن 21 ذو الحجہ سوموار کے دن مسجد نبوی میں کرا کر جہاں امن و امان قائم کیا وہاں اگر چہ آپ پوری طرح حالات پر قابو نہ پا سکے۔مگر پھر بھی بڑی حد تک منافقوں کی سازشوں کو نا کام اور بے اثر بنا دیا۔حضرت علیؓ کے دست اقدس پر بیعت ہوئی۔