سوانح حضرت علیؓ — Page 7
11 10 علیہ وسلم کو اس حال کا علم ہوا تو ان کا غم دور کرنے کے لیے فرمایا : علی ! کیا تم اس بات کو پسند آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات حج سے واپسی کے بعد ابتدائے ماہ نہیں کرو گے کہ تمہاری نسبت میرے ساتھ ایسی ہو جیسا کہ ہارون کی موسیٰ کے ساتھ تھی۔ربیع الاوّل 11 ہجری میں آنحضرت ( بخاری کتاب فضائل اصحاب النبی مناقب علی ) صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے۔حضرت علیؓ نے دوسرے اصحاب کے ساتھ نہایت تند ہی اور غزوہ تبوک سے واپسی کے بعد اسی سال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر جانفشانی کے ساتھ تیمارداری اور خدمت گزاری کا فرض انجام دیا۔ایک روز باہر آئے تو صدیق کو امیر حج بنا کر روانہ فرمایا۔اسی اثناء میں سورۃ تو بہ نازل ہوئی۔چنانچہ حضرت علی کو لوگوں نے پوچھا: اب حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا مزاج کیسا ہے؟ حضرت علی نے اطمینان بلا کر حکم دیا کہ وہ مکہ جا کر یہ سورۃ سنائیں۔ظاہر کیا۔دس روز کی مختصر علالت کے بعد 12 / ربیع الاول سوموار کے دن دو پہر کے وقت تبلیغ اسلام کے سلسلہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جانثاروں کو داغ مفارقت دیا۔حضرت علیؓ چونکہ مہم یمن اور اشاعت اسلام وسلم نے رمضان 10 ہجری میں حضرت علی کو رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ترین عزیز اور خاندان کے رکن تھے ، اس لیے منسل یمن جانے کا حکم دیا۔انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! میں ایک ایسی قوم میں بھیجا جارہا اور تجہیز وتکفین کے تمام مراحل میں آپ شامل رہے۔ہوں جس میں مجھ سے زیادہ معمر اور تجربہ کار لوگ موجود ہیں ان لوگوں کے جھگڑوں کا فیصلہ کرنا میرے لیے نہایت دشوار ہو گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا دی کہ : ” اے خدا! اس کی زبان کو راست گو بنا اور اس کے دل کو ہدایت کے نور سے منور کر دے۔“ ( کنزل العمال جلد 5 صفحہ (609) خلفاء سے تعلق سقیفہ بنی ساعدہ کی مجلس نے حضرت ابوبکر صدیق کی خلافت پر اتفاق کیا اور تقریباً تمام اہل مدینہ نے بیعت کی۔حضرت علیؓ نے بھی حضرت ابو بکر کی بیعت کی اور آپ کے دست راست بن کر مشوروں میں شریک رہے۔سوا دو برس کی خلافت کے بعد حضرت ابوبکر صدیق نے وفات پائی اور حضرت اور اس کے بعد خود اپنے دست اقدس سے آپ کے سر پر عمامہ باندھا اور سیاہ علم دے کر یمن کی طرف روانہ فرمایا۔حضرت علیؓ کے یمن پہنچتے ہی یہاں کا رنگ بدل گیا اور حضرت علی عمر خلیفہ ہوئے۔حضرت عمرؓ بڑی بڑی مہمات میں حضرت علیؓ سے بھی مشورہ فرماتے اور مرتضیٰ کی صرف چند روزہ تعلیم و تلقین سے لوگ اسلام کے شیدائی ہو گئے اور قبیلہ ہمدان حضرت علیؓ بھی نہایت دوستانہ اور مخلصانہ مشورے دیتے تھے۔حضرت عمرؓ جب بیت المقدس گئے تو انہیں امیر مقامی بنا کر گئے۔مسلمان ہو گیا۔(فتح الباری جلد 8 صفحہ 152) حجۃ الوداع میں شرکت اسی سال یعنی 10 ہجری میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یادگار حج میں شریک ہوئے۔( تاریخ ابن خلدون جلد 2 صفحہ 106) حضرت عمرؓ کے ساتھ اتحاد و یگانگت کا اخیر مرتبہ یہ تھا کہ باہم رشتہ مصاہرت قائم نے آخری حج کیا۔حضرت علی بھی یمن سے آ کر اس ہو گیا۔یعنی حضرت علیؓ کی صاحبزادی اُم کلثوم حضرت عمرؓ کے نکاح میں آئیں۔حضرت عمر کے بعد حضرت عثمان کے عہد خلافت میں منافقین کا فتنہ وفساد شروع ہوا تو