سوانح حضرت ابو بکرؓ

by Other Authors

Page 4 of 25

سوانح حضرت ابو بکرؓ — Page 4

5 4 مطعون ، حضرت ابو عبیدہ بن الجراح اور خالد بن سعید۔ایک دن حضرت بلال کو اسی طرح مارا جا رہا تھا کہ حضرت ابوبکر وہاں سے جب قریش کو ان سب کے مسلمان ہونے کا پتہ چلا تو وہ بہت ناراض ہوئے اور گزرے تو آپ نے یہ دیکھا تو بے چین ہو گئے اور اپنے مسلمان بھائی کو ظالموں سے نئے مسلمان ہونے والوں کو مارنے اور تکلیفیں دینے لگے تا کہ وہ اسلام چھوڑ دیں۔چھڑانے کے لیے بلال کے مالک سے کہا کہ وہ ان کو آپ کے ہاتھ بیچ دے۔اس حضرت عثمان کو ان کا چچا رشی سے باندھ کر مارا کرتا تھا یہاں تک کہ آپ بے ہوش ہو طرح آپ نے بلال کو خرید کر آزاد کر دیا۔آپ نے بلال کے علاوہ عمرو، فہیر یہ، ابوفکیہ ، جاتے تھے۔حضرت زبیر کو ایک ٹاٹ میں لپیٹ کر دھواں دیتے کہ آپ کا سانس گھٹنے زنیرہ، نہد یہ بنت نہد یہ اور ام عمیس کو بھی اسی طرح ان کے مالکوں سے خرید کر آزاد لگتا۔اسی طرح باقی مسلمانوں کو بھی طرح طرح کی تکلیفیں پہنچاتے تھے لیکن سب سے کیا۔ان کے مالک چونکہ جانتے تھے کہ حضرت ابو بکر اپنے ان مسلمان بہن بھائیوں کو زیادہ تکلیف ان مسلمانوں کو تھی جو غلام تھے۔ان کو کوئی بھی پو چھنے والا نہ تھا۔کافران کو ماریں کھاتا نہیں دیکھ سکتے اس لیے وہ آپ سے ان کی قیمت بھی بہت زیادہ مانگا کرتے تنگ کرتے ، ان کو کوڑوں سے مارتے۔اُن کے ہاتھ پاؤں کی ہڈیاں توڑ دیتے۔سخت تھے لیکن حضرت ابو بکر منہ مانگی قیمت پر ان کو خرید لیتے تھے۔گرمی میں انہیں کئی کئی دن تک بھوکا پیاسا رکھ کر تیز دھوپ میں زمین پر گھسیٹتے پھرتے۔ایک دن آپ کے والد ابو قحافہ نے آپ کو کہا: ”اگر تمہیں غلاموں پر پیسہ خرچ کرنا ہی حضرت بلال کو ان کا مالک اُمیہ بن خلف دو پہر کے وقت پیتے ہوئے پتھروں پر ہے تو پھر بوڑھے، کمزور اور اندھے غلاموں کی بجائے جوان اور مضبوط غلام خرید کر آزادکر وجو لٹا کر ان کے سینے پر بھاری پتھر کی سلیں رکھ دیتا تا کہ وہ ہل نہ سکیں اور انہیں کوڑے لگاتا کبھی تمہارے کام بھی آسکیں۔حضرت ابو بکر نے جواب دیا: ”نہیں میں خدا کی رضا کے اور کہتا کہ خدا کا انکار کرو مگر آپ کے منہ سے یہی آواز آتی اَحَدٌ اَحَدٌ یعنی خدا ایک لیے پیسہ خرچ کرتا ہوں۔میں نہیں چاہتا کہ میرے اس نیک کام میں کوئی دنیاوی مطلب بھی ہے۔خدا ایک ہے۔شامل ہو۔“ حضرت ابو فکیہ کو ان کا مالک صفوان بن امیہ اسی طرح پتھروں پر لٹا کر مارتا اور ایک دن قریش کے بہت سے سردار خانہ کعبہ میں بیٹھے تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ جب آپ بے ہوش ہو جاتے تو آپ کی گردن میں رسی باندھ کر مکہ کے بچوں کو دے وسلم بھی طواف اور نماز کے لیے وہاں گئے۔عقبہ بن ابی معیط کی نظر پڑی تو اس نے دیتا اور وہ آپ کو منہ کی پتھریلی اور سخت گرم زمین پر گلیوں میں گھسیٹتے پھرتے۔اپنے ساتھیوں کے ساتھ رسول اللہ پر حملہ کر دیا اور اتنا مارا کہ آپ بے ہوش ہو گئے۔زنیرہ کو ابوجہل نے اتنا مارا کہ آپ اندھی ہوگئیں۔ایک اور مسلمان عورت لبینہ کو عقبہ نے اپنی چادر آپ کے گلے میں ڈالی اور آپ کو گھسیٹنا شروع کر دیا۔باقی سردار ان کا مالک مارتا۔اتنا مارتا کہ خود تھک جا تا پھر کہتا کہ اب میں تمہیں چھوڑ رہا ہوں ، اس ساتھ ساتھ چلتے جاتے۔آپ کو مارتے اور گالیاں دیتے جاتے۔کسی شخص نے لیے کہ تھک گیا ہوں اور پھر سانس لے کر دوبارہ مارنا شروع کر دیتا۔حضرت ابو بکر کو اطلاع دی۔آپ دوڑتے ہوئے آئے اور غصے سے بھرے ہوئے