سوانح حضرت ابو بکرؓ

by Other Authors

Page 3 of 25

سوانح حضرت ابو بکرؓ — Page 3

3 2 ہے۔اونچا درجہ رکھتے ہیں اور آپ ان لوگوں میں سے ہیں جو تاریخ کا رخ موڑ دیتے ہیں۔آپ سے ملنے کے لیے آئے اور بتایا کہ ابوطالب کے بھتیجے نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے آپ کے بچپن اور جوانی کے حالات کے متعلق زیادہ پتہ نہیں چلتا۔پیدائش پر ان سرداروں کے چلے جانے کے بعد آپ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آپ کا نام عبدالکعبہ رکھا گیا تھا۔مسلمان ہونے پر حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پاس گئے اور آپ سے پوچھا کہ کیا آپ نے خدا کا نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے؟ رسول نے آپ کا نام عبد اللہ رکھ دیا۔آپ کی خوبصورتی کی وجہ سے لوگ آپ کو عتیق کہا کرتے اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو سمجھانے لگے مگر حضرت ابو بکڑ نے کہا آپ مجھے یہ بتائیں کہ تھے۔سب سے پہلے مسلمان ہونے کی وجہ سے آپ صدیق کہلائے۔والد کا نام عثمان کیا آپ آپنے آپ کو خدا کا نبی کہتے ہیں؟ رسول اللہ نے فرمایا : ہاں۔اس پر حضرت ابو ابو قحافہ اور والدہ کا نام ام الخیر سلمی تھا۔ماں باپ دونوں قریش کے خاندان بنو تمیم سے بکر کہنے لگے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ خدا کے رسول ہیں۔اس طرح آپ حضرت تعلق رکھتے تھے۔حضرت ابو بکر کی تاریخ پیدائش معلوم نہیں۔یہ پتہ چلتا ہے کہ آپ خدیجہؓ حضرت علیؓ اور حضرت زید بن حارثہ کے ساتھ سب سے پہلے مسلمان ہونے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تقریباً اڑھائی تین برس چھوٹے تھے۔والوں میں سے ہیں۔آپ کے مسلمان ہونے کا ذکر کرتے ہوئے ایک دفعہ حضرت مسلمان ہونے سے پہلے آپ تجارت کیا کرتے تھے اور اس کے لیے شام اور یمن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جس کسی کو بھی اسلام کا پیغام پہنچایا وہ جاتے رہتے تھے۔پہلا تجارتی سفر آپ نے اٹھارہ سال کی عمر میں کیا تھا اور چند ہی مسلمان ہونے میں کچھ نہ کچھ جھج کا سوائے ابوبکر کے ، جو بغیر کسی جھجک کے فوراً ہی سالوں میں آپ کا شمار مکہ کے بڑے بڑے اور امیر تاجروں میں ہونے لگا۔مکہ کے مسلمان ہو گئے۔“ رہنے والے اور دوسرے لوگ جو تجارت کے سلسلے میں آپ سے ملتے ، آپ کی دیانت ، آپ کی نیکی ، دیانت ،شرافت عقلمندی ، دولت اور قریش پر آپ کے اچھے اثر کی اچھے اخلاق ،عقلمندی اور اچھا مشورہ دینے کی خوبیوں کی وجہ سے آپ کی عزت کرتے وجہ سے آپ کے مسلمان ہونے کی بہت شہرت ہوئی اور قریش کے سرداروں کو اس کا اور آپ کو بہت پسند کرتے تھے۔قبیلہ قریش میں جولڑائیاں ہوتی تھیں ان کا فیصلہ بطور بہت صدمہ ہوا۔مسلمان ہوتے ہی آپ نے اپنی جان و مال اور اپنا اثر ورسوخ اسلام حج آپ ہی کرتے تھے۔قریش اور اس کے خاندان کی تاریخ کا جاننے والا آپ سے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کے لیے وقف کر دیا اور قریش میں تبلیغ شروع زیادہ کوئی نہ تھا۔کر دی۔آپ کی کوششوں سے مکہ کے مشہور اور بڑے خاندانوں میں سے جو لوگ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دوست تھے۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ مسلمان ہوئے ان میں سے بعض کے نام یہ ہیں۔حضرت عثمان بن عفان جو رسول وسلم نے دعوی کیا کہ میں نبی ہوں اس وقت آپ مکہ سے باہر گئے ہوئے تھے۔جب اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تیسرے خلیفہ ہوئے ، حضرت زبیر بن العوام ، حضرت طلحہ بن واپس آئے تو مکہ کے کچھ سردار جن میں ابو جہل عمر و بن ہشام، متنبہ اور شیبہ بھی تھے عبید اللہ ، حضرت عبد الرحمن بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت عثمان بن